Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
56 - 263
یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے اس کے سوا کیسا ہی سخت کفر کیوں نہ ہو حقیقتاً شرک نہیں، کسی کافر کی مغفر ت نہ ہوگی، کفر کے سوا سب گناہ  اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت پر ہیں جسے چاہے بخش دے۔ 
 عقیدہ۲۳: کبیرہ گناہ کرنے سے مسلمان کافر نہیں ہوتا بلکہ مسلمان ہی رہتا ہے اگر بلا توبہ کیے مر جائے تو بھی اس کو جنت ملے گی، گناہ کی سزا بھگت کر یا معافی پا کر اور یہ معافی اللّٰہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی سے دے یا حضورعَلَیْہِ السَّلَام کی شفاعت سے۔ 
مسئلہ۱:کافر کے لیے دعائے مغفرت کا حکم 
	جو کسی مرے ہوئے کافر کے لئے مغفرت کی دعا کرے یا کسی کافر مرتد ( 1) کو مرحوم یا مغفور یا بہشتی (2 )   کہے یا کسی ہندو مردہ کو بیکنٹھ باشی ( 3) کہے وہ خود کافرہے۔
 عقیدہ۲۴:   مسلمان کو مسلمان جاننا اور کافر کو کافر جاننا ضروری ہے البتہ کسی خاص آدمی کے کافر ہونے کا یا مسلمان ہونے کا یقین اُس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ شرعی دلیل سے خاتمہ کا حال معلوم نہ ہوجائے کہ کفر پر مرا یا اسلام پر مرا لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ جس نے یقینا کفر کیا ہو اُس کے کافر ہونے میں شک کیا جائے اس لیے کہ یقینی کافر کے کفر میں شک کرنا خود کافر ہونا ہے اس لیے کہ شریعت کا حکم ظاہر کے لحاظ سے ہوتا ہے البتہ قیامت میںفیصلہ حقیقت کے اعتبار سے ہوگا۔ اس کویوں سمجھو کہ کوئی کافر یہودی نصرانی ہندو مرگیا تو یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ کفر پر مرا مگر ہم کو اللّٰہ ورسول کا حکم یہی ہے کہ اُسے کافر



________________________________
1 -      وہ شخص ہے کہ اسلام کے بعد کسی ایسے امر کاانکار کرے جوضروریاتِ دین سے ہو یعنی زبان سے کلمہ کفر بکے جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو۔یوہیں بعض افعال بھی ایسے ہیں جن سے کافر ہوجاتاہے مثلاً بت کوسجدہ کرنا،مصحف شریف کونجاست کی جگہ پھینک دینا۔  (بہارشریعت، حصہ۹ ،۲/۱۶۳)   
2 -      جنتی
3 -      جنت میں رہنے والا۔