Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
54 - 263
 اور کہے گا اے جنت والو! ہمیشگی ہے اب مرنا نہیں اور اے دوزخیو! ہمیشگی ہے اب مرنا نہیں اس وقت جنتیوں کی خوشی پر خوشی ہوگی اور جہنمیوں کو غم کے اُوپرغم۔ 
نَسْئَلُ اللّٰہَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃ۔
ایمان و کفر کا بیان 
ایمان کیا ہے؟ 
	 ایمان یہ ہے کہ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)  ورسول (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)   کی بتائی ہوئی تمام باتوںکا یقین کرے اور دل سے سچ جانے۔ 
کفر کیا ہے؟
	اگر کسی ایسی ایک بات کا بھی انکار ہے جس کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ اسلام کی بات ہے تو یہ کفر ہے۔ جیسے قیامت، فرشتے، جنت، دوزخ، حساب کو نہ ماننا یا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کو فرض نہ جاننا۔ قرآن کو اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کا کلام نہ سمجھنا۔ کعبہ قرآن یا کسی نبی یافرشتہ کی توہین کرنی یا کسی سنت کو ہلکا بتانا، شریعت کے حکم کا مذاق اڑانا اور ایسی ہی اسلام کی کسی معلوم و مشہور بات کا انکار کرنایا اُس میں شک کرنا یقینا کفر ہے۔ مسلمان ہونے کے لیے ایمان و اعتقاد کے ساتھ اِقرار بھی ضروری ہے، جب تک کوئی مجبوری نہ ہو مثلاً منہ سے بولی نہیں نکلتی یا زبان سے کہنے میں جان جاتی ہے یا کوئی عضو کاٹا جاتا ہے تو اُس وقت زبان سے اِقرار کرنا ضروری نہیں بلکہ صرف زبان سے خلافِ اسلام بات بھی جان بچانے کے لیے کہہ سکتا ہے لیکن نہ کہنا ہی اچھا ہے اور ثواب ہے۔ اِس کے سوا جب کبھی زبان سے کلمہ