و ناقابل برداشت ہوں گی، یہ دن انبیاء و اولیاء اور صالحین (1 ) کے لیے اِتنا ہلکا کردیا جائے گا کہ معلوم ہوگا کہ اس میں اتنا وقت لگا جتنا ایک وقت کی فرض نماز میں لگتا ہے بلکہ اس سے بھی کم یہاں تک کہ بعضوں کے لیے تو پلک جھپکنے میں سارا دن طے ہوجائے گا۔ سب سے بڑی نعمت جو مسلمانوں کو اس دن ملے گی وہ اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔
یہاں تک تو حشر کے مختصر حالات بیان کیے گئے اب اس کے بعد آدمی کو ہمیشگی کے گھر جاناہے کسی کو آرام کا گھر ملے گا جس کے عیش و آسائش کی کوئی انتہا نہیں اُس کو جنت کہتے ہیں کسی کو تکلیف کے گھر میں جانا ہوگا جس کی تکلیف کی کوئی حد نہیں اُسے جہنم اور دوزخ کہتے ہیں، جنت دوزخ حق ہیں اُن کا انکار کرنے والا کافر ہے جنت دوزخ بن چکی ہیں اور اب موجود ہیں، یہ نہیں کہ قیامت کے دن بنائی جائیں گی، قیامت حشر حساب ثواب عذاب جنت دوزخ سب کے وہی معنی ہیں جو مسلمانوں میں مشہور ہیں لہٰذا جو آدمی ان چیزوں کو تو حق کہے مگر انکے معنی کچھ اور کہے مثلا ًیہ کہے کہ ثواب کے معنی اپنی نیکیوں کو دیکھ کر خوش ہونا اور عذاب کے معنی اپنے برے عمل کو دیکھ کر رنج کرنا یا حشر فقط روحوں کا ہوگا بدن کا نہیں تو ایسا آدمی حقیقت میں ان چیزوں کا منکر ہے اور وہ کافر ہے، قیامت بے شک ضرور قائم ہوگی،
________________________________
1 - صالحین:نیک لوگ۔ (۱۲منہ)