Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
257 - 263
ہے اور تین بار کہنا افضل ہے، اِسے تکبیر تشریق کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں : اَللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَروَلِلّٰہِ الْحَمْد۔  (تنویر الابصار و بہار وغیرہ) 
مسئلہ۱۵:  تکبیر تشریق سلام پھیرنے کے بعد فوراً واجب ہے یعنی جب تک کوئی ایسا فعل نہ کیا ہو کہ اس نماز پر بنا نہ کرسکے اگرمسجد سے باہر ہوگیا یا قصداً وضو توڑ دیا یا کلام کیا اگرچہ سہواً تو تکبیر ساقط ہوگئی اور بلا قصد وضو ٹوٹ گیا، کہہ لے۔   (ردالمحتار ودرمختار وبہار) 
تکبیر تشریق کس پر واجب ہے اور کب واجب ہے ؟
مسئلہ۱۶:  تکبیر تشریق اس پر واجب ہے جو شہر میں مقیم ہو یا جس نے مقیم کی اِقتداء کی اگرچہ وہ اِقتداء کرنے والا عورت یا مسافر یا گاؤں کا رہنے والا ہو اوریہ لوگ اگر مقیم کی اِقتداء نہ کریں تو اُن پر واجب نہیں ۔  (درمختار و بہار) 
مسئلہ۱۷:   تکبیر تشریق ان اَیام میں جمعہ کے بعد بھی واجب ہے اور نفل و سنت ووتر کے بعد نہیں البتہ نماز عید کے بعد بھی کہہ لے۔  (درمختار) 
گہن کی نماز 
سورج گہن 
	 سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور چاند گہن کی نماز مستحب ہے۔ سورج گہن کی نماز جماعت سے پڑھنی مستحب ہے اور تنہا تنہا بھی ہوسکتی ہے۔ اگر جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا جمعہ کی تمام شرطیں اس کے لیے شرط ہیں ۔ وہی شخص اس کی جماعت قائم کر