Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
256 - 263
 سبب چاند نہیں دیکھا گیا اور گواہی ایسے وقت گزری کہ نماز نہ ہوسکی یا اَبر تھا اورنماز ایسے وقت ختم ہوئی کہ زوال ہوچکا تھا)  تو دوسرے دن پڑھی جائے اور دوسرے دن بھی نہ ہوئی تو عید الفطر کی نماز تیسرے دن نہیں ہوسکتی ا ور دوسرے دن بھی نماز کا وہی وقت ہے، جو پہلے دن تھا یعنی ایک نیزہ آفتاب بلند ہونے سے نصف النہار شرعی تک اور اگر بلا عذر عید الفطر کی نماز پہلے دن نہ پڑھی تودوسرے دن نہیں پڑھ سکتے۔  (قاضی خان،  عالمگیری، درمختار وبہار) 
مسئلہ۱۳:  عید الاضحی تمام اَحکام میں عید الفطر کی طرح ہے صرف بعض باتوں میں فرق ہے اِس میں مستحب یہ ہے کہ نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے اگرچہ قربانی نہ کرے اور کھالیا تو کراہت نہیں اور راستہ میں بلند آواز سے تکبیر کہتا جائے اور عیدالاضحی کی نماز عذر کی وجہ سے بارہویں تک بلا کراہت مؤخر کرسکتے ہیں ، بارہویں کے بعد پھر نہیں ہوسکتی اور بلا عذر دسویں کے بعد مکروہ ہے۔  (قاضی خان، عالمگیری وغیرہ)  
مسئلہ۱۴:  قربانی کرنی ہو تو مستحب یہ ہے کہ پہلی سے دسویں ذی الحجہ تک نہ حجامت بنوائے نہ ناخن کٹوائے  (ردالمحتار وبہار)  بعد نمازِ عید مصافحہ ( 1) و معانقہ ( 2)  کرنا جیسا کہ عموماً مسلمانوں میں رائج ہے بہتر ہے۔  (وشاح الجید و بہار شریعت) 
تکبیر تشریق کیا ہے ؟ 
	تکبیر تشریق نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک پانچوں وقت کی ہر فرض نماز کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو، ایک بار بلند آواز سے تکبیر کہنا واجب 



________________________________
1 -     مصافحہ: ہاتھ ملانا۔  (۱۲منہ) 	
2 -     معانقہ: گلے ملنا۔  (۱۲منہ)