Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
254 - 263
 اُٹھائے اوراَللّٰہُ اَکْبَرکہہ کر ہاتھ باندھ لے۔ یعنی پہلی تکبیر میں ہاتھ باندھے اس کے بعد دو تکبیروں میں ہاتھ لٹکائے پھر چوتھی تکبیر میں ہاتھ باندھ لے اِس کو یوں یاد رکھے کہ جہاں تکبیر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھ لیے جائیں اور جہاں پڑھنا نہیں وہاں ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں جب چوتھی تکبیر میں ہاتھ باندھ لے تو امام اَعُوْذُ بِاللّٰہ، بِسْمِ اللّٰہ آہستہ پڑھ کر زور سے اَلْحَمْداور سورۃ پڑھے پھر رکوع کرکے ایک رکعت پوری کرے جب دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو تو پہلے اَلْحَمْد اور سورۃ پڑھے پھر تین بار کان تک ہاتھ لے جا کر  اَللّٰہُ اَکْبَر کہے اور ہاتھ نہ باندھے اور چوتھی بار بغیر ہاتھ اُٹھائے اَللّٰہُ اَکْبَر کہتا ہوا رکوع میں جائے، اس سے معلوم ہوگیا کہ عید میں زائد تکبیر چھ ہوئیں تین تکبیریں پہلی رکعت میں قرأ ت سے پہلے اور تکبیر تحریمہ کے بعد اور تین تکبیریں دوسری رکعت میں قرأت کے بعد اور رکوع کی تکبیر سے پہلے اِن چھئیوں تکبیروں میں ہاتھ اُٹھائے جائیں گے اور ہر دو تکبیروں کے درمیان تین تسبیح پڑھنے کے برابر سکتہ کرے اور عیدین میں مستحب یہ ہے کہ پہلی ر کعت میں اَلْحَمْدکے بعد سورۃ جمعہ پڑھے اور دوسری میں سورۃ منافقون یا پہلی میں سَبِّحِ اسْمَ اور دوسری میں هَلْ اَتٰىكَ  (درمختار و بہار) 
	 نماز کے بعد امام دو خطبے پڑھے اور جمعہ کے خطبے میں جو چیزیں سنت ہیں وہ عیدین کے خطبے میں بھی سنت ہیں اور جو باتیں جمعہ کے خطبہ میں مکروہ ہیں وہ عیدین کے خطبے میں بھی مکروہ ہیں ۔ صرف دو باتوں میں فرق ہے ایک یہ کہ جمعہ کے پہلے خطبہ سے قبل خطیب کا بیٹھنا سنت تھا اور اس میں نہ بیٹھنا سنت ہے دوسرے یہ کہ اس میں پہلے خطبہ سے قبل نو بار اور دوسرے خطبہ سے قبل سات بار اور منبر سے اُترنے کے پہلے چودہ باراَللّٰہُ اَکْبَر کہنا سنت ہے اور جمعہ میں نہیں ۔  (عالمگیری، درمختار و بہار)