کم و بیش مگر طاق ہوں ، کھجوریں نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز کھا لے نماز سے پہلے کچھ نہ کھایا تو گنہگار نہ ہوا۔ لیکن اگر عشاء تک نہ کھایا تو عتاب ( 1) کیا جائے گا۔ (ردالمحتار وغیرہ) خوشی ظاہر کرنا، کثرت سے صدقہ دینا، عیدگاہ کو اطمینان اور وقار سے اور نیچی نگاہ کیے جانا، آپس میں مبارک باد دینا، یہ سب باتیں مستحب ہیں ۔
مسئلہ۴: راستہ میں بلند آواز سے تکبیر نہ کہے۔ ( درمختار و ردالمحتار و بہار)
مسئلہ۵: عیدگاہ سواری پر جانے میں حر َج نہیں مگر جس کو پیدل جانے پر قدرت ہو، اُس کے لیے پیدل جانا افضل ہے اور واپسی میں سواری پرآنے میں حر َج نہیں ۔ (جوہرہ، عالمگیری، بہار)
مسئلہ۶: عیدین کی نماز کا وقت اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب کہ سورج ایک نیزہ کے برابر اُونچا ہوجائے اور ضحوئہ کبریٰ یعنی نصف النہار شرعی تک رہتا ہے لیکن عید الفطر میں دیر کرنا اور عیدالاضحی میں جلد پڑھ لینا مستحب ہے اور سلام پھیرنے کے پہلے زوال ہوگیا تو نماز جاتی رہی۔ (ہدایۃ، قاضی خان، درمختار) زوال سے مراد نصف النہار شرعی ہے جس کا بیان وقت کے بیان میں گزرا۔ (بہار)
نمازِ عید کا طریقہ
یہ ہے کہ دو رکعت واجب عیدالفطر یا عید الاضحی کی نیت کرکے کانوں تک ہاتھ اُٹھائے اوراَللّٰہُ اَکْبَرکہہ کے ہاتھ باندھ لے پھر ثنا ء پڑھے پھر کانوں تک ہاتھ اُٹھائے اوراَللّٰہُ اَکْبَر کہتا ہوا ہاتھ چھوڑ دے پھر کانوں تک ہاتھ اُٹھائے اوراَللّٰہُ اَکْبَر کہہ کر چھوڑ دے، پھر ہاتھ
________________________________
1 - سرزَنش و ملامت