Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
252 - 263
عیدین کا بیان 
	عیدین  ( یعنی عید و بقر عید) کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ اُنہیں پر جن پر جمعہ واجب ہے اور اس کی ادا کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے لیے ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ جمعہ میں خطبہ شرط ہے اور عیدین میں سنت ہے۔ اگر جمعہ میں خطبہ نہ پڑھا تو جمعہ نہ ہو ا اور عیدین میں نہ پڑھاتو نماز ہوگئی مگر بُرا کیا۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ نماز سے پہلے ہے اور عیدین کا نماز کے بعد اگر عیدین کا خطبہ نماز سے پہلے پڑھ لیا تو بُرا کیا مگر نماز ہوگئی، لوٹائی نہیں جائے گی اور خطبہ کا بھی اِعادہ نہیں اور عیدین میں نہ اَذان ہے نہ اِقامت۔ صرف دو باراِتنا کہنے کی اجازت ہے:  اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ ۔ (1 )   
                                                                                           ( قاضی، عالمگیری، درمختار وغیرہ) 
مسئلہ۱:  بلاوجہ عید کی نماز چھوڑنا گمراہی و بدعت ہے۔  (جوہرہ نیرہ و بہار)  
مسئلہ۲:  گاؤں میں عید کی نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔  (درمختار و بہار)  
مسئلہ۳:  عید کے دن یہ باتیں مستحب ہیں حجامت بنوانا ،ناخن کٹوانا، غسل کرنا، مسواک کرنا، اچھے کپڑے پہننا، نیا ہو تو نیا ورنہ دُھلا، انگوٹھی (2 )   پہننا، خوشبو لگانا، صبح کی نماز محلہ کی مسجد میں پڑھنا، عیدگاہ جلد چلا جانا، نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا، عیدگاہ کو پیدل جانا، دوسرے راستہ سے واپس آنا، نماز کو جانے سے پہلے چند کھجوریں کھالینا، تین پانچ سات یا 



________________________________
1 -     نماز ِبا جماعت تیار ہے۔	
2 -     کس چیز کی اور کیسی انگوٹھی جائز ہے؟ مسئلہ :مرد کے لیے صرف چاندی کی وزن میں ساڑھے چار ماشہ سے کم ایک نگ کی ایک انگوٹھی پہننی جائز ہے اس کے سوا کسی قسم کی کوئی انگوٹھی جائز نہیں۔ لوہا، پیتل اور دھاتوں کی انگوٹھی مردوں اور عورتوںسب کو ناجائز ہے بلکہ عورتوں کو سونے چاندی کے سوا لوہے، تانبے، پیتل وغیرہ کا ہر زیور ناجائز ہے۔ ۱۲منہ