Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
248 - 263
کیا گیا اور مالدار ہے یعنی ادا کرسکتا ہے تواس پر فرض ہے۔
دسویں شرط:   خوف نہ ہونا۔ اگر بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کا ڈر ہے یا مفلس قرضدار کو قید ہونے کا ڈر ہے تو اس پر فرض نہیں ۔  (ردالمحتار)  
گیارہویں شرط:   آندھی یا پانی یا اَولے یا سردی کا نہ ہونا۔ یعنی یہ چیز اگر اتنی سخت ہیں کہ ان سے نقصان کا خوف ہو تو جمعہ فرض نہیں ۔ 
مسئلہ۱۶:  جمعہ کی اِمامت ہر وہ مرد کرسکتا ہے جو اَور نمازوں میں امام ہوسکتا ہے اگرچہ اس پر جمعہ فرض نہ ہو۔ جیسے مریض، مسافر، غلام  (درمختار، ہدایہ، قاضی خان، فتح القدیر)   یعنی جب کہ سلطانِ اسلام یا اُس کا نائب یا جس کو اُس نے اجازت دی بیمار ہو یا مسافر تویہ سب نماز جمعہ پڑھا سکتے ہیں یا انہیں تینوں نے کسی مریض یا مسافر یا غلام یا کسی لائق اِمامت کو اجازت دی ہو،یا بضرورت عام لوگوں نے کسی ایسے کو امام مقر رکیا ہو جو اِمامت کرسکتا ہو تو وہ پڑھاسکتا ہے چاہے مریض و مسافر و غلام ہی کیوں نہ ہو۔ یہ نہیں کہ بطورِ خود جس کا جی چاہے جمعہ پڑھا دے کہ یوں جمعہ نہ ہوگا۔ 
مسئلہ۱۷:  جس پر جمعہ فرض ہے اُسے شہر میں جمعہ ہوجانے سے پہلے ظہر پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ 
مسئلہ۱۸:  مریض یا مسافر یا قیدی یا کوئی اور جس پر جمعہ فرض نہیں اِن لوگوں کو بھی جمعہ کے دن شہر میں جماعت کے ساتھ ظہر پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے خواہ جمعہ ہونے سے پہلے جماعت کریں یا بعد میں یو ہیں جنہیں جمعہ نہ ملا وہ بھی بغیر اَذان واِقامت ظہر کی نماز تنہا تنہا پڑھیں ، جماعت اُن کے لیے بھی منع ہے۔  (درمختار)