Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
244 - 263
 حاضرین کا امام کی طرف متوجہ رہنا، خطبہ سے پہلے اَعُوْذُ بِاللّٰہ آہستہ پڑھنا، اتنی بلند آواز سے خطبہ پڑھنا کہ لوگ سنیں ، اَلْحَمْد سے شروع کرنا، اللّٰہ       عَزَّوَجَلَّ کی ثناء کرنا،  اللّٰہتعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی رسالت کی شہادت دینا، حضور پر دُرود بھیجنا ،کم سے کم ایک آیت کی تلاوت کرنا، پہلے خطبہ میں وعظ و نصیحت کا ہونا، دوسرے میں حمد و ثناء و شہادت و دُرود کا اِعادہ کرنا اور دوسرے مسلمانوں کے لیے دعا کرنا، دونوں خطبے ہلکے ہونا، دونوں خطبوں کے درمیان بقدر تین آیت پڑھنے کے بیٹھنا، مستحب یہ ہے کہ دوسرے خطبہ میں آواز بہ نسبت پہلے کے پست ہواور خلفائے راشدین و عمین مکر مین حضرت حمزہ و عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ   کا ذکر ہو۔ بہتر یہ ہے کہ دوسرا خطبہ اِس سے شروع کریں ۔ 
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَنُؤْمِنُ بِہٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّاٰتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّھْدِہِ اللّٰہُ فَلَامُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْہٗ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَنَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَنَشْھَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ ( 1)   
	مرد اگر امام کے سامنے ہو تو امام کی طرف منہ کرے اور داہنے بائیں ہو تو اما م کی طرف مڑ جائے اور امام سے قریب ہونا افضل ہے مگر یہ جائز نہیں کہ امام سے قریب ہونے کے لیے 



________________________________
1 -      حمد ہے اللّٰہ  (عَزَّوَجَلَّ) کے لیے، ہم اُس کی حمد کرتے ہیں اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں اور مغفرت چاہتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر توکل کرتے ہیں اور اللّٰہ  (عَزَّوَجَلَّ) کی پناہ مانگتے ہیں اپنے نفسوں کی برائی سے اور اپنے اعمال کی بدی سے جس کو اللّٰہ  (عَزَّوَجَلَّ)  ہدایت کرے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو گمراہ کرے اُسے ہدایت کرنے والا کوئی نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللّٰہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے سردار اور ہمارے مددگار محمد اس کے خاص بندے اور رسول ہیں۔