چوتھی شرط: خطبہ کابیان
جمعہ کے خطبہ میں شرط یہ ہے کہ وقت میں ہو اور نماز سے پہلے ہو اور ایسی جماعت کے سامنے ہو جو جمعہ کے لیے ضروری ہے یعنی کم سے کم خطیب کے سوا تین مرد ہوں اور اتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سن سکیں اگر کوئی اَمر مانع نہ ہوتو اگر زَوال سے پہلے خطبہ پڑھ لیا یا نماز کے بعد پڑھا یا تنہا پڑھا یا عورتوں اور بچوں کے سامنے پڑھا تو ان سب صورتوں میں جمعہ نہ ہوا۔
مسئلہ۵: خطبہ اور نماز میں اگر زیادہ فاصلہ ہوجائے تو وہ خطبہ کافی نہیں ۔ (درمختار و بہار شریعت)
خطبہ کس کو کہتے ہیں ؟
مسئلہ۶: خطبہ ذکر الٰہی کا نام ہے لہٰذا اگر صرف ایک بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ یا سُبْحٰنَ اللّٰہ یا لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہا تو فرض ادا ہوگیا لیکن خطبہ کو اتنا مختصر کرنا مکروہ ہے۔ (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۷: سنّت یہ ہے کہ دو خطبے پڑھے جائیں اور بڑے بڑے نہ ہوں ۔ اگر دونوں مل کر طِوالِ مفصَّل سے بڑھ جائیں تو مکروہ ہے خصوصاً جاڑے میں ۔ (غنیۃ ودرمختار و بہار)
خطبہ میں کیا چیزیں سنت ہیں ؟
مسئلہ۸: خطبہ میں یہ چیزیں سنت ہیں : خطیب کا پاک ہونا، کھڑا ہونا، خطبہ سے پہلے خطیب کا بیٹھنا، خطیب کا منبر پر ہونا اور سامعین کی طرف منہ اور قبلہ کی طرف پیٹھ کیے رہنا،