Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
242 - 263
نمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جمعہ قائم کرلیا اور جس نے چاہا پڑھادیا، یہ ناجائز ہے۔ اِس لیے کہ جمعہ قائم کرنا بادشاہ ِاسلام یا اِس کے نائب کا کام ہے اور جہاں سلطنت اسلامی نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا عالم، فقیہ، سنی، صحیح العقیدہ ہو۔ وہ اَحکامِ شرعیہ جاری کرنے میں سلطانِ اسلام کے قائم مقام ہے۔ لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے بغیر اُس کی اجازت کے نہیں ہوسکتا اور اگر یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں لیکن عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطورِ خود کسی کو امام نہیں بناسکتے، نہ یہ ہوسکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کرلیں ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔  (بہار شریعت) 
دوسری شرط:  بادشاہ کا بیان
	بادشاہ اِس سے مراد سلطانِ اسلام یا اُس کا نائب ہے جس کو سلطان نے جمعہ قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ سلطان عادل ہو یا ظالم جمعہ قائم کرسکتا ہے۔ یوہیں اگرزبردستی بادشاہ بن بیٹھا یعنی شرعاً اس کو حق امامت نہ ہو۔ مثلاً قریشی نہ ہو یا اور کوئی شرط نہ ہو تویہ بھی جمعہ قائم کرسکتا ہے۔  (درمختاروردالمحتار وغیرہ) 
تیسری شرط:  وقت کا بیان
	جمعہ کا وقت، وقت ِظہر ہے یعنی جو وقت ظہر کاہے، اُس وقت کے اندر جمعہ ہونا چاہیے تو اگر جمعہ کی نماز میں ، اگرچہ تشہد کے بعد عصر کا وقت آگیا تو جمعہ باطل ہوگیا، ظہر کی قضا پڑھیں ۔  (عامہ کتب)