مصلحتوں کے لیے ہو، جیسے قبرستان، گھڑ دوڑ کا میدان، فوج کے رہنے کی جگہ ، کچہری، اسٹیشن کہ یہ چیزیں شہر سے باہر ہوں تو فنائے مصر میں اِن کا شمار ہے اور وہاں جمعہ جائز ہے لہٰذا جمعہ یا شہر میں پڑھا جائے یا قصبہ میں یا اُن کی فنا میں اور گاؤں میں جائز نہیں ۔ (غنیہ وبہار شریعت وغیرہ)
مسئلہ۲: مصر کے لیے وہاں کا حاکم رہنا ضرور ہے اگر بطورِ دَورہ وہاں آگیا تو وہ جگہ مصر نہ ہوگی، نہ وہاں جمعہ قائم کیا جائے گا۔ (ردالمحتارو بہار شریعت)
مسئلہ۳: گاؤں کا رہنے والا شہر میں آیا اور جمعہ کے دن یہیں ر ہنے کا ارادہ ہے تو جمعہ فرض ہے۔
کیا شہر میں کئی جگہ جمعہ ہوسکتا ہے ؟
مسئلہ۴: شہر میں کئی جگہ جمعہ ہوسکتا ہے۔ چاہے شہر چھوٹا ہو یا بڑا اور جمعہ دو مسجدوں میں ہو یا زیادہ میں ۔ (درمختار وغیرہ) مگر بلا ضرورت بہت سی جگہ جمعہ قائم نہ کیا جائے کہ جمعہ شعائر اسلام سے ہے اور جامع جماعات ہے اور بہت سی مسجدوں میں ہونے سے وہ شوکت اسلامی باقی نہیں رہتی جو اجتماع میں ہوتی ہے نیز دفع حر َج کے لیے تعدد جائز رکھا گیاہے تو خوامخواہ جماعت پر ا گندہ کرنا ( 1) اور محلہ محلہ جمعہ قائم کرنا نہ چاہیے۔
جمعہ کون قائم کرسکتا ہے؟
اور ایک بہت ضروری بات جس کی طرف لوگوں کو بالکل توجہ نہیں یہ ہے کہ جمعہ کو اَور
________________________________
1 - منتشر