Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
240 - 263
جمعہ کا بیان 
	جمعہ فرضِ عین ہے ا سکی فرضیت ظہر سے زیادہ مؤکد ہے اس کا منکر کافر ہے۔ (درمختار وغیرہ)   حدیث میں ہے :جس نے تین جمعے برابر چھوڑے اُس نے اسلام کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا وہ منافق ہے وہ اللّٰہ سے بے علاقہ ہے۔  (ابن خزیمہ وحبان و رزین وامام شافعی)  
مسئلہ۱:  جمعہ پڑھنے کے لیے چھ شرطیں ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی شرط نہ پائی گئی تو جمعہ ہوگا ہی نہیں ۔ 
شرائط جمعہ 
 {۱}  مصر یافنائے مصر	          {۲}  بادشاہ 	        {۳}  وقت ِظہر
            {۴}   خطبہ 	                  {۵}  جماعت	         {۶}  اِذنِ عام ( )    
پہلی شرط:   ِمصرو  َفنائے مصر کا بیان 
	 مصر سے وہ جگہ مرا دہے جس میں متعدد کوچے اور بازار ہوں اور وہ ضلع یا پرگنہ ( )  ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے  جاتے ہوں اور وہاں کوئی حاکم ہو کہ اپنے دَبدبہ وسطوت ( )  کے سبب مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے یعنی انصاف پر پوری قوت و قدرت ہو، اگرچہ ناانصافی کرتا اور بدلہ نہ لیتا ہو۔ فنائے مصر سے وہ جگہ مراد ہے جو مصر کے آس پاس مصر کی



________________________________
1 -      اِذنِ عام: عام اجازت۔  (۱۲منہ) 
2 -      ضلع کا حصہ۔
3 -      رعب۔