Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
239 - 263
بھی جائے جب بھی زمین پر نہ ٹھہرے گی اور ریل گاڑی ایسی نہیں اور کشتی پر بھی اُسی وقت نماز جائز ہے جب وہ بیچ دریا میں ہو، اگر کنارے پر ہو اور خشکی پر آسکتا ہو تو اُس پر بھی جائز نہیں ۔  (کما قال شیخنا الفقیہ الاوحد والفاضل الامجد) 
کشتی یا جہاز پر نماز کے اَحکام 
مسئلہ۳۰:  چلتی ہوئی کشتی یا جہاز میں بلا عذر بیٹھ کر نماز صحیح نہیں جب کہ اُتر کر خشکی میں پڑھ سکے۔ 
مسئلہ۳۱:  اگر کشتی زمین پر بیٹھ گئی ہو تو اُترنے کی ضرورت نہیں ، اُسی پر پڑھ سکتا ہے۔ 
 مسئلہ۳۲:  کشتی کنارے پر بندھی ہے اور اُتر سکتا ہے تو اُتر کر خشکی میں پڑھے اور اگر نہ اُتر سکے تو کشتی ہی میں کھڑے ہو کر پڑھے۔ 
مسئلہ۳۳:  اگر کشتی بیچ دریا میں لنگرڈالے ہوئے ہے تو بیٹھ کر اس وقت پڑھ سکتے ہیں جب کہ ہوا کے تیز جھونکے لگتے ہوں کہ کھڑے ہونے میں چکر آنے کا ڈر ہو اور اگر ہوا سے زیادہ حرکت نہ ہو تو بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے۔ 
مسئلہ۳۴:  اور کشتی پر نماز پڑھنے میں قبلہ رُو ہونا لازم ہے جب کشتی گھوم جائے تونمازی بھی گھوم جائے کہ قبلہ کو منہ رہے اور اگر اتنی تیز گردِش ہے کہ قبلہ کو منہ کرنے سے عاجز ہے تواس وقت ملتوی رکھے ہاں اگر وقت جاتا دیکھے تو پڑھ لے۔  (غنیۃ، درمختار و ردالمحتار و بہار)