Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
238 - 263
کن عذروں سے سواری پر نماز ہوسکتی ہے ؟
	سواری پر جن عذروں سے، اِن سب مذکور ہ بالا ( 1)  نمازوں کا پڑھنا جائز ہوجاتا ہے وہ عذر یہ ہیں :  {۱}  پانی برس رہا ہو {۲}  اتنی کیچڑ ہے کہ اُتر کر پڑھے گا تو منہ دھنس جائے گا یا کیچڑ میں بھر جائے گا یا جو کپڑا بچھائے گا، وہ بالکل لتھڑ جائے گا اور اس صورت میں اگر سواری نہ ہو تو کھڑے کھڑے اِشارے سے پڑھے {۳}  ساتھی چلے جائیں گے {۴} یا سواری کا جانور شریر ہے سوار ہونے میں دُشواری ہوگی مددگار کی ضرورت ہوگی اور مددگار موجود نہیں  {۵} مرض میں زیادتی ہوگی {۶} جان  {۷} مال یا عورت کو آبروکا ڈر ہو۔ (درمختار و ردالمحتار) 
چلتی گاڑی پر نماز کا حکم 
مسئلہ۲۹:  چلتی ریل پر بھی فرض اور واجب اور فجر کی سنت نہیں ہوسکتی، اِس لیے جب اسٹیشن پر گاڑی رُکے اُس وقت یہ نمازیں پڑھے اور اگر دیکھے کہ وقت جاتا ہے تو جس طرح بھی ممکن ہو پڑھ لے پھر جب موقع ملے تو اِعادہ کرے کہ جہاں من جہت العباد   کوئی شرط یا رکن مفقود ہو (2 ) یہی حکم ہے۔   (بہار شریعت)  
تحقیق و تنبیہ:
	چلتی ریل کو چلتی کشتی اور جہاز کے حکم میں تصور کرنا غلطی ہے، اِس لیے کہ کشتی اگر ٹھہرائی ؎



________________________________
1 -        مذکورہ بالا: اوپر بیان کیا ہوا۔  (۱۲منہ)   
2 -      یعنی بندوں کی طرف سے کوئی شرط یا رکن چھوٹے۔