نیت کا اعتبار ہے۔ جیسے شوہر کی نیت کا اعتبار ہے عورت کی نیت کا اعتبار نہیں ، آقا کی نیت کا اعتبار ہے غلام کی نیت کا نہیں ، فوج کے افسر کی نیت کا اعتبار ہے اور سپاہی کی نیت کا نہیں تو اگر مثلاً شوہر نے اِقامت کی نیت کی تو اس کی عورت بھی مقیم ہے اور اگر عورت نے اقامت کی نیت کی اور شوہر نے نہ کی تو عورت مقیم نہ ہوئی، اِسی طرح دوسرے تابعوں کا حکم ہے۔
مسافر و مقیم کب ایک دوسرے کی اِقتداء کرسکتے ہیں ؟
مسئلہ۱۷: مقیم مسافر کی اِقتداء کر سکتا ہے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی باقی دو رکعتیں پڑھ لے اور ان رکعتوں میں قرأ ت بالکل نہ کرے بلکہ اِتنی دیر چپ کھڑا رہے جتنی دیر میں سورۃ فاتحہ پڑھی جاتی ہے۔ (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۱۸: اگر مسافر ہو تو اس کو چاہیے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے کہہ دے کہ میں مسافر ہوں اور بعد میں بھی سلام پھیرتے ہی یہ کہہ دے کہ تم لوگ اپنی نماز پوری کر لو میں مسافر ہوں ۔
مسئلہ۱۹: مسافر نے مقیم کی اِقتداء کی تو اس مسافر مقتدی پر بھی قعدہ اُولیٰ واجب ہوگیا، فرض نہ رہا۔ تو اگر امام نے قعدہ نہ کیا تو نماز فاسد نہ ہوئی اور مقیم نے مسافر کی اِقتداء کی تو اس مقیم مقتدی پر بھی قعدہ اُولیٰ فرض ہوگیا۔ (درمختار وردالمحتار)
مسئلہ۲۰: مسافر جب اپنے وطن اصلی میں پہنچ گیا تو سفر ختم ہوگیا اگرچہ اِقامت کی نیت نہ کی ہو۔
وطن اصلی کی تعریف
مسئلہ۲۱: وطن اصلی وہ جگہ ہے جہاں اس کی پیدائش ہے یا اس کے گھر کے لوگ وہاں رہتے