Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
231 - 263
مسافر کی نماز کا بیان 
	شرع میں مسافر وہ ہے جو تین دن کی راہ تک جانے کے ارادہ سے بستی سے باہر ہوا۔  
مسئلہ۱:   دن سے مراد سال کا سب سے چھوٹا دن ہے اور تین دن کی راہ سے یہ مطلب نہیں کہ صبح سے شام تک چلے بلکہ دن کا اکثر حصہ مراد ہے مثلاً شروع صبح صادق سے دوپہر ڈھلنے تک چلا پھر ٹھہر گیا پھر دوسرے اور تیسرے دن یوہیں کیا تو اتنی دور تک کی راہ کو مسافت سفر کہیں گے، دوپہر کے بعد تک چلنے میں بھی برابر چلنا مراد نہیں بلکہ عادۃًجتنا آرام لینا چاہیے اُتنا درمیان میں ٹھہرتا بھی جائے اور چلنے سے مراد درمیانی چال ہے، نہ تیز، نہ سست۔ خشکی میں آدمی اور اونٹ کی درمیانی چال کا اعتبار ہے اور پہاڑی راستہ میں اِسی حساب سے جو اس کے لیے مناسب ہو اور دریا میں کشتی کی چال اس وقت کی جب کہ ہوا نہ بالکل رُکی ہو نہ تیز ہو۔  (درمختار، عالمگیری) 
مسئلہ۲:  کوس  (1 ) کا اعتبار نہیں کہ کوس کہیں چھوٹے ہوتے ہیں کہیں بڑے، بلکہ اعتبار  تین منزلوں کا ہے اور خشکی میں میل کے حساب سے اس کی مقدار ستاون میل تین فرلانگ (۵۷ ۸ /۳)  میل (2 ) ہے۔  (فتاویٰ رضویہ و بہار شریعت) 
قصر کی مسافت 
مسئلہ۳:  تین دن کی راہ کو تیز سواری پر دو دن یا کم میں طے کرے تو مسافر ہے اور تین دن 



________________________________
1 -      تقریباً دومیل کا فاصلہ۔
2 -      فتاویٰ رضویہ میں مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّحْمٰن نے ساڑھے ستاون     (۵۷ ۲ /۱) میل لکھا ہے۔  (فتاویٰ رضویہ مخرجہ،۸/۲۷۰ )