Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
230 - 263
 چھوڑا تو تہائی مال سے ہر فرض اور وتر کے بدلے آدھا صاع (1 ) گیہوں یا ایک صاع جو صدقہ کریں اور اگر مال نہ چھوڑا اور وارث فدیہ دینا چاہیں تو کچھ مال اپنے پاس سے یا قرض لے کر مسکین (2 ) کو صدقہ دے دیں ۔ جب مسکین مال پر قبضہ کرلے تو اپنی طرف سے وارث کو ہبہ کر دے اور وارث بھی اُس پر قبضہ کرلے پھر یہ وارث مسکین کو دے دے۔ یوہیں لوٹ پھیر کر تے رہیں یہاں تک کہ سب نمازوں کا فدیہ ادا ہوجائے اور اگر مال چھوڑا لیکن کافی نہیں ہے جب بھی یہی کریں اور اگر مرنے والے نے فدیہ دینے کی وصیت نہ کی اور ولی اپنی طرف سے بطورِ اِحسان فدیہ دینا چاہے تو دے۔ 
مسئلہ۲۲:  جس کی نمازوں میں نقصان و کراہت ہو وہ تمام عمر کی نمازیں پھیرے تو اچھا ہے اور کوئی خرابی نہ ہو تو نہ چاہیے اور کرے تو فجر و عصر کے بعد نہ پڑھے اور تمام رکعتیں بھری پڑھے اور وتر میں قنو ت پڑھ کر تیسری رکعت کے بعد قعدہ کرے اور ایک رکعت اور ملائے کہ چار ہو جائیں ۔   (عالمگیری) 
 قضائے عمری کچھ نہیں 
مسئلہ۲۳:  بعض لوگ شب قدر یا آخر رمضان میں جو نماز قضائے عمری کے نام سے پڑھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ عمر بھر کی قضاؤں کے لیے یہ کافی ہے یہ بالکل غلط اور باطل محض ہے۔ 



________________________________
1 -      تقریباً2کلو سے80گرام کم (1920 گرام ) 
2 -      وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہویہاں تک کہ کھانے اوربدن چھپانے کے لیے اس کامحتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے۔  (بہارشریعت، حصہ۵،۱/۹۲۴)