Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
228 - 263
 چھ نمازوں سے زیادہ ہیں جن کی وجہ سے ترتیب جاتی رہتی ہے۔  ( ردالمحتار)  
 مسئلہ۱۶:  جب چھ نمازوں کے قضا ہونے کی وجہ سے ترتیب ساقط ہوگئی تو اب اگر ان قضاؤں میں سے بعض پڑھ لیں کہ قضا چھ سے کم رہ گئیں تو ابھی ترتیب والا نہ ہوگا، جب تک چھیئوں کی قضا نہ پڑھ لے جب سب کی قضا پڑھ لے گا تب پھر صاحب ترتیب ہو جائے گا۔  (شرح وقایہ، عالمگیری ، درمختار و ردالمحتار)  
مسئلہ۱۷:  چھ یا اس سے زیادہ قضا نمازیں جس طرح اس قضا و ادا میں ترتیب کو ساقط کردیتی ہیں اسی طرح قضاؤں میں بھی ترتیب کو ساقط کردیتی ہیں قضاؤں میں بھی آپس میں ترتیب نہیں رہتی آگے پیچھے پڑھی جاسکتی ہیں ، جیسے کسی نے ایک مہینہ تک نماز نہ پڑھی پھر اس مہینہ کی نمازوں کی قضا اس طرح پر پڑھی کہ پہلے تیس فجر کی قضا پڑھی پھر اس کے بعد تیس ظہر کی قضا پڑھی اسی طرح پانچوں وقت کی قضا پڑھی تو اس طرح قضا پڑھنا بھی صحیح ہے۔  (عالمگیری ) 
مسئلہ۱۸:  جس کے ذمہ قضا نمازیں ہوں اگر چہ اُن کا پڑھنا جلد سے جلد واجب ہے مگر بال بچوں کے حقوق اور اپنی ضروریات کی وجہ سے تاخیر کرسکتا ہے لہٰذا کاروبار بھی کرے اور جو وقت فرصت کا ملے اس میں قضا پڑھتا رہے، یہاں تک کہ سب پوری ہوجائیں ۔   (درمختار)  
مسئلہ۱۹:  قضا نمازیں نوافل سے اہم ہیں یعنی جس وقت نفل پڑھتا ہے اُنہیں چھوڑ کر اُن کے بدلے قضائیں پڑھے تاکہ بری الذمہ ہوجائے البتہ تراویح اور بارہ رکعتیں سنت مؤکدہ کی نہ چھوڑے۔ 
مسئلہ۲۰:  جس کے ذمہ برسوں کی نمازیں قضا ہوں اور ٹھیک یاد نہ ہو کہ کتنے دن سے کون