مسئلہ۱۲: اگر وقت میں اتنی گنجائش نہیں کہ وقتی اور سب قضائیں پڑھ لے تو وقتی نماز اور قضا نمازوں میں جس کی گنجائش ہو پڑھے، باقی میں ترتیب ساقط ہے۔ جیسے نماز عشاء اور وتر دونوں قضا ہوگئیں اور فجر کے وقت میں پانچ رکعت کی گنجائش ہے تو وِتر کی قضا پڑھ کے فجر کی پڑھ لے اور اگر چھ رکعت کی گنجائش ہے تو عشاء کی قضا پڑھ کر فجر پڑھے۔ (شرح وقایہ)
مسئلہ۱۳: اگر وقت میں اتنی گنجائش ہے کہ مختصر طور پر پڑھے تو دونوں پڑھ سکتا ہے اور عمدہ طریقے سے پڑھے تو دونوں نمازوں کی گنجائش نہیں تو اس صورت میں بھی ترتیب فرض ہے اور بمقدار ِجواز جہاں تک اختصار کرسکتا ہے کرلے۔ (1 ) (عالمگیری)
مسئلہ۱۴: چھ نمازیں جس کی قضا ہوگئیں کہ چھٹی کا وقت ختم ہوگیااس پر ترتیب فرض نہیں اب اگرچہ باوجود وقت کی گنجائش اور قضا کی یاد کے وقتی پڑھے گا۔ وقتی ہوجائے گی چاہے قضا نمازیں جو اس کے ذمہ ہیں سب ایک ساتھ قضا ہوئیں جیسے ایک دم سے چھ وقتوں کی نہ پڑھی یا سب ایک دم سے نہ ہوں بلکہ متفرق طور پر قضا ہوئیں جیسے چھ دن فجر نہ پڑھی اور باقی نمازیں پڑھتا رہا لیکن اِن کے پڑھتے وقت وہ فجر کی قضائیں بھولا رہا۔ ( ردالمحتار)
مسئلہ۱۵: جب چھ نمازیں قضا ہوگئیں کہ چھٹی کا وقت بھی جاتا رہا تو ترتیب فرض نہ رہی چاہے وہ سب پرانی ہوں یا بعض نئی بعض پرانی جیسے ایک مہینہ کی نماز نہ پڑھی پھر پڑھنی شروع کی پھر ایک وقت کی قضاہوگئی تو اس کے بعد کی نماز ہوجائے گی۔ اس لیے کہ اُس کے ذمہ
________________________________
1 - قانونِ شریعت کے دیگر نسخوں میں یہ مسئلہ ’’ کس نماز کی قضا معاف ہے ‘‘ کے تحت لکھا ہوا ہے جبکہ یہ مسئلہ قضا اور وقتی نمازوں میں ترتیب سے متعلق ہے جسے اسی عنوان کے تحت آنا چاہیے اور بہارِ شریعت میں بھی وقتی اور قضا نمازوں کے تحت ہی مذکورہے لہٰذا ہم نے عنوان کی مناسبت اور بہارِ شریعت کی مطابقت میں یہ مسئلہ یہاں لکھا ہے۔ المدینۃ العلمیۃ