Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
225 - 263
 مسئلہ۳:   وقت میں تحریمہ باندھ لیا  (1 )  تو نماز قضا نہ ہوئی بلکہ ادا ہے مگر فجر اور جمعہ و عیدین کی نماز میں سلام سے پہلے اگر وقت نکل گیا تو نماز جاتی رہی۔   (درمختار و بہار) 
مسئلہ۴:  سوتے میں یا بھولے سے نماز قضا ہوگئی تو اُس کی قضا پڑھنی فرض ہے البتہ قضا کا گناہ اس پر نہیں لیکن جاگتے ہی اور یاد آنے پر اگر مکروہ وقت نہ ہو تو اُسی وقت پڑھ لے دیر کرنا مکروہ ہے۔   (عالمگیری) 
مسئلہ۵:  فرض کی قضا فرض ہے اور واجب کی قضا واجب ہے اور سنت کی قضا سنت یعنی وہ سنتیں جن کی قضا ہے جیسے فجر کی سنت جب کہ فرض بھی فوت ہوگیا ہو اور جیسے ظہر کی پہلی سنت جب کہ ظہر کا وقت باقی ہو۔  (عالمگیری،درمختار و ردالمحتار) 
قضا کا وقت 
مسئلہ۶:  قضا کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں عمر میں جب پڑھے گا بریٔ الذمہ ہو جائے گا  ( 2)  لیکن اگر طلوع و غروب و زوال کے وقت پڑھی تو نہیں اس لیے کہ ان وقتوں میں نماز جائز نہیں ۔  (عالمگیری) 
 مسئلہ۷:  جو نماز جیسی فوت ہوئی اس کی قضا ویسی ہی پڑھی جائے گی۔ مثلاًسفر میں نماز قضا ہوئی تو چار رکعت والی دو ہی پڑھی جائے گی اگرچہ اِقامت کی حالت میں پڑھے اور جو اِقامت کی حالت میں فوت ہوئی تو چار رکعت والی کی قضا چار رکعت ہے اگرچہ سفر میں پڑھے البتہ قضا پڑھنے کے وقت کوئی عذر ہے تواُس کا اعتبار کیا جائے گا۔ مثلاً جس وقت فوت ہوئی اُس 



________________________________
1 -      تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے نماز شروع کردی۔
2 -      بری الذمہ ہوجائے گا: یعنی سر سے بوجھ اتر جائے گا، اس کے سراس کا پڑھنا باقی نہ رہے گا۔  (۱۲منہ)