Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
224 - 263
مسئلہ۷:  مریض کے نیچے نجس بچھونا بچھا ہے اور حالت یہ ہے کہ بدلا بھی جائے تو پڑھتے پڑھتے بقدر مانع ناپاک ہوجائے گا تو اُسی پر نماز پڑھے یونہی اگربدلا جائے تواس قدر جلدی نجس تو نہ ہوگا مگر بدلنے میں مریض کو سخت تکلیف ہوگی تو اسی نجس ہی پر پڑھ لے۔ 
                                                                                        (عالمگیری،درمختاروردالمحتارو بہار)  
مسئلہ۸:  پانی میں ڈوب رہا ہے اگر اس وقت بھی بغیر عمل کثیر اشارہ سے پڑھ سکتا ہے مثلاً تیراک ہے یا لکڑی وغیرہ کا سہارا پا جائے تو پڑھنا فرض ہے ورنہ معذور ہے بچ جائے تو قضا پڑھے۔  (درمختار و ردالمحتارو بہار)  
قضانماز کا بیان
	بلا عذر شرعی نماز قضا کردینا بہت سخت گناہ ہے اس پر فرض ہے کہ اُس کی قضا پڑھے اور سچے دل سے توبہ کرے، توبہ یا حج مقبول سے تاخیر کا گناہ معاف ہوجائے گا۔ (درمختار) 
مسئلہ۱:    ’’ توبہ ‘‘  جب ہی صحیح ہے کہ قضا پڑھ لے۔ جو ذمہ میں باقی ہیں اُس کو تو ادا نہ کرے، توبہ کیے جائے یہ توبہ نہیں ۔ اس لیے کہ جو اس کے ذمہ تھی اس کا پڑھنا تو اَب بھی ہے اور جب گناہ سے باز نہ آیا تو توبہ کہاں ہوئی۔  (ردالمحتار)  حدیث میں فرمایا کہ گناہ پر قائم رہ کر استغفار کرنے والا اس کے مثل ہے جو اپنے رب سے ٹھٹھا کرتا ہے۔
قضا کی تعریف 
مسئلہ۲:  جس بات کا بندے کو حکم ہے اُسے وقت میں کرنے کو ادا کہتے ہیں اور وقت نکل جانے کے بعد کرنے کو قضا کہتے ہیں ۔