Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
223 - 263
کا ادا کرنا ضروری نہیں ۔  (درمختار وغیرہ)  
مسئلہ۲:  سب فرض نمازوں میں اور وتر اورد ونوں عید کی نماز میں اور فجر کی سنت میں قیام فرض ہے اگر بلا عذر کے یہ نمازیں بیٹھ کر پڑھے گا تو نہ ہوں گی۔  (درمختار و ردالمحتار) 
مسئلہ۳:  قیام چونکہ فرض ہے اس لیے بلا صحیح شرعی عذر کے ترک نہ کیا جائے ورنہ نماز نہ ہوگی، یہاں تک کہ اگر عصایا خادم یا دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑا ہوسکتا ہے تو فرض ہے کہ اسی طرح کھڑا ہو کر پڑھے بلکہ اگر کچھ دیر بھی کھڑا ہوسکتا ہے کہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ لے تو فرض ہے نماز کھڑے ہو کر شروع کرے پھر بیٹھ کر پوری کرے، ورنہ نماز نہ ہوگی۔ ذرا سا بخار دردِ سر، زُکام یا اس طرح کی معمولی خفیف تکلیفیں جن میں لوگ چلتے پھرتے رہتے ہیں ہر گز عذر نہیں ایسی معمولی تکلیفوں میں جو نمازیں بیٹھ کر پڑھی گئیں وہ نہ ہوئیں اُن کی قضا لازم ہے۔ 
                                                                                           ( غنیۃ وبہار شریعت وغیرہ) 
مسئلہ۴:  جس شخص کو کھڑے ہونے سے قطرہ آتا ہے یا زخم بہتا ہے اور بیٹھنے سے نہیں تو اُسے فرض ہے کہ بیٹھ کر پڑھے جب کہ اور طریقہ سے اس کی روک نہ کرسکے۔  
مسئلہ۵:  اِتنا کمزور ہے کہ مسجد میں جماعت کے لیے جانے کے بعد کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکے اور گھر میں پڑھے تو کھڑا ہو کر پڑھ سکتا ہے تو گھر ہی میں پڑھے جماعت گھر میں کرسکے تو جماعت سے ورنہ تنہا۔  (درمختار و ردالمحتار) 
مسئلہ۶:  بیمار اگر کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو قرأ ت بالکل نہ کرسکے گا تو بیٹھ کر پڑھے لیکن اگر کھڑے ہو کر کچھ بھی پڑھ سکتا ہے تو فرض ہے کہ جتنی دیر کھڑے کھڑے پڑھ سکتا ہے اُتنی دیر کھڑے کھڑے پڑھے باقی بیٹھ کر۔  (درمختار و ردالمحتار)