ناجائز ہے اگر حافظ اپنی تیزی و روانی کی نام آوَر ی (1 ) کے لیے ایسا کرے تو ریا کا گناہ الگ۔
بیمار کی نماز
جو شخص بیماری کی وجہ سے کھڑا نہ ہوسکتا ہو، وہ بیٹھ کر نماز پڑھے بیٹھے بیٹھے رکوع کرے یعنی آگے کو خوب جھک کر سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہے اور پھر سیدھا ہوجائے اور پھر جیسے سجدہ کیا جاتا ہے ویسے سجدہ کرے اور اگر بیٹھ کر بھی نماز نہیں پڑھ سکتا تو چت لیٹ کر پڑھے اس طرح لیٹے کہ پاؤں قبلہ کی طر ف ہوں اور گھٹنے کھڑے رہیں اور سر کے نیچے تکیہ وغیرہ کچھ رکھ لے تاکہ سر اُونچا ہو کہ منہ قبلہ کے سامنے ہوجائے اور رکوع اور سجدہ اشارہ سے کرے۔ یعنی سر کو جتنا جھکا سکتا ہے، اُتنا تو سجدہ کے لیے جھکائے اور اس سے کچھ کم رکوع کے لیے جھکائے، اِسی طرح دا ہنی یا بائیں کروٹ پر بھی قبلہ کو منہ کرکے پڑھ سکتا ہے۔
بیمار کب نماز چھوڑ سکتا ہے ؟
بیمار جب سر سے بھی اشارہ نہ کرسکے تو نماز ساقط ہے اس کی ضرورت نہیں کہ آنکھ یا بھوں ( 2) یا دل کے اشارے سے پڑھے پھر اگر چھ وقت اِسی حالت میں گزر گئے تو ان کی قضا بھی ساقط ہے، فدیہ کی بھی حاجت نہیں اور اگر ایسی حالت کہ چھ وقت سے کم گزرے تو صحت کے بعد قضا فرض ہے چاہے اتنی ہی صحت ہوئی کہ سر کے اِشارے سے پڑھ سکے۔
(درمختاروبہار وغیرہ)
مسئلہ۱: جس بیمار کایہ حال ہوگیا ہو کہ رکعتوں اور سجدوں کی گنتی یاد نہیں رکھ سکتا تو اس پر نماز
________________________________
1 - شہرت
2 - اَبرو