’’ فتح القدیر ‘‘ نے اِسے ہی ہُوَالْمُخْتَار کہا۔ عالمگیری میں اسی کی صحت پر زور دیا کہ اَلْمُخْتَارُ اَنَّہٗ لَا یَجُوْزُ وَھُوَالْاَصَحُّ وَھُوَ قَوْلُ الْعَامَّۃِ ھُوَظاَہِرُالرِّوَایَۃ۔ کہا اور ہدایہ، محیط، بحر سے اپنی تائید لائے وَمَشٰی عَلَیْہِ اُسْتَاذِیْ صَدْرُ الشَّرِیْعَۃ فِیْ ’’ بَہَارِ شَرِیْعَت ‘‘ وَقَال:یہی صحیح ہے۔
مسئلہ۳۸: مہینہ بھر کی کل تراویح میں ایک بار قرآنِ مجید ختم کرنا سنت مؤکدہ ہے اور دو مرتبہ فضیلت اور تین ختم افضل، لوگوں کی سُستی کی وجہ سے ختم کو نہ چھوڑے۔ (درمختار)
مسئلہ۳۹: حافظ کو اُجرت دے کر تراویح پڑھوانا ناجائز ہے، دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں ۔ اُجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کرلیں کہ یہ لیں گے، یہ دیں گے بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے اگر چہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ ’’ اَلْمَعْرُوْفُ کَاالْمَشْرُوْط ‘‘ ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لوں گا پھر پڑھے اور لوگ حافظ کو کچھ بطورِ خدمت و مدد کے دیں تو اس میں کوئی حر َج نہیں کہ ’’ اَلصَّرِیْحُ یَفُوْقُ الدَّلَالَۃ۔ ‘‘ ( بہار شریعت)
شبینہ
یعنی ایک رات میں پورا قرآنِ مجید تراویح میں ختم کرنا جیسا کہ ہمارے زمانہ میں رَواج ہے کہ حافظ اس قدر جلد پڑھتے ہیں کہ الفاظ تک سمجھ میں نہیں آتے حروف کو مخارج سے ادا کرنے کا تو ذِکر ہی کیا سننے والوں کی بھی یہ حالت کہ کوئی بیٹھا ہے تو کوئی لیٹا کوئی سوتا ہے تو کوئی اُونگھتا جہاں امام نے رکوع کی تکبیر کہی جھٹ نیت باندھی رکوع میں جا ملے ایسا شبینہ