Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
220 - 263
مسئلہ۳۰:  جس نے عشاء کی فرض نماز نہیں پڑھی وہ نہ تراویح پڑھ سکتا ہے، نہ وتر جب تک فرض ادا نہ کرلے۔
مسئلہ۳۱:  جس نے عشاء کی فرض نماز تنہا پڑھی اور تراویح جماعت سے تو وہ وتر تنہا پڑھے۔  (درمختار و ردالمحتار)  
مسئلہ۳۲:  اگر عشاء کی فرض نماز جماعت سے پڑھی اور تراویح تنہا پڑھی تو وتر کی جماعت میں شریک ہوسکتا ہے۔  (درمختار و ردالمحتار)  
مسئلہ۳۳:  جس کی کچھ رکعتیں تراویح کی باقی رہ گئیں کہ امام وتر کے لیے کھڑا ہوگیا تو امام کے ساتھ وتر پڑھ لے پھر باقی ادا کرے، جب کہ فرض جماعت سے پڑھ چکا ہو تب اور یہ افضل ہے اور اگر تراویح پوری کرکے وتر تنہا پڑھے تو بھی جائز ہے۔  (عالمگیری) 
مسئلہ۳۴:  لوگوں نے تراویح پڑھ لی اب دوبارہ پڑھنا چاہتے ہیں تو تنہا تنہا پڑھ سکتے ہیں جماعت کی اجازت نہیں ۔  (عالمگیری) 
مسئلہ۳۵:   ایک امام دو مسجدوں میں تراویح پڑھاتاہے اگرد ونوں میں پوری پوری پڑھائے تو ناجائز ہے اور اگر مقتدی نے دونوں مسجدوں میں پوری پڑھی تو حرج نہیں مگر دوسری میں وتر پڑھنا جائز نہیں جب کہ پہلی میں پڑھ چکا ہو۔  (عالمگیری) 
مسئلہ۳۶:  تراویح مسجد میں جماعت سے پڑھنا افضل ہے۔ اگر گھر میں جماعت سے پڑھی تو جماعت چھوڑنے کا گناہ نہ ہوا مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں پڑھنے کا تھا۔     (عالمگیری) 
مسئلہ۳۷:  نابالغ کے پیچھے بالغوں کی تراویح نہ ہوگی۔ صاحب ِ ’’ ہدایہ ‘‘  نے اِسی کو مختار بنایا