تراویح کی نماز کا بیان
تراویح وہ بیس رکعت سنت مؤکدہ نماز ہیں جو رمضان شریف میں پڑھی جاتی ہیں ، عشاء کی فرض کے بعد ہرر ات میں ۔
مسئلہ۲۳: تراویح کا وقت عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد سے لے کر صبح صادق کے نکلنے تک ہے۔ (ہدایہ)
مسئلہ۲۴: تراویح میں جماعت سنت کفایہ ہے کہ اگر مسجد کے سب لوگوں نے چھوڑ دی تو سب گنہگار ہوئے اور اگر کسی نے گھر میں تنہا پڑھ لی تو گنہگار نہیں ۔ (ہدایہ و قاضی خان)
مسئلہ۲۵: مستحب یہ ہے کہ تہائی رات تک تاخیر کریں اور اگر آدھی رات کے بعد پڑھیں تو بھی کراہت نہیں ۔ (درمختار و بہار شریعت)
مسئلہ۲۶: تراویح جس طرح مردوں کے لیے سنت مؤکدہ ہے اُسی طرح عورتوں کے لیے بھی سنت مؤکدہ ہے، اس کا چھوڑنا جائز نہیں ۔ (قاضی خان)
مسئلہ۲۷: تراویح کی بیس رکعتیں دو دو رکعت کرکے دس سلام پھیرے، اِس میں ہر چار رکعت پڑھ لینے کے بعد اتنی دیر تک آرام لینے کے لیے بیٹھنا مستحب ہے جتنی دیر میں چار رکعتیں پڑھی ہیں ، اس آرام کرنے کے لیے بیٹھنے کو ترویحہ کہتے ہیں ۔ (عالمگیری وقاضی خان)
مسئلہ۲۸: تراویح کے ختم پر پانچواں ترویحہ بھی مستحب ہے اگر لوگوں پر پانچواں ترویحہ گراں ہو تو نہ کیا جائے۔ (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۲۹: ترویحہ میں اختیار ہے کہ چپ بیٹھا رہے یا کچھ کلمہ و تسبیح و قرآن شریف، درود شریف پڑھتا رہے اور تنہا تنہا نفل بھی پڑھ سکتا ہے، جماعت سے مکروہ ہے۔ (قاضی خان)