Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
214 - 263
 کرکے پڑھنا افضل ہے۔   (درمختار و ردالمحتار)  
مسئلہ۱۱: ظہر و مغرب و عشاء کے بعد جو مستحب ہے اس میں سنت مؤکدہ داخل ہے۔ مثلاً ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو سنت ِمؤکدہ و مستحب دونوں ادا ہوگئے اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ مؤکدہ و مستحب دونوں کو ایک سلام  کے ساتھ ادا کرے یعنی چار رکعت پر سلام پھیرے اور اس میں مطلق سنت کی نیت کافی ہے مؤکدہ یا مستحب کی تصریح نہ کرے، دونوں ادا ہو جائیں گی۔  ( 1)   (فتح القدیرو بہار)  
مسئلہ۱۲:  نفل و سنت کی سب رکعتوں میں قرأت فرض ہے۔ 
 مسئلہ۱۳:  سنت و نفل قصداً شروع کرنے سے واجب ہوجاتی ہے کہ اگر توڑ دے گا تو قضا پڑھنی پڑے گی۔ 
مسئلہ۱۴:   نفل بلا عذر بھی بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں مگر کھڑے ہو کر پڑھنے میں دونا ثواب ہے۔   (ہدایہ) 
مسئلہ۱۵:  نفل بیٹھ کر پڑھے تو اِس طرح بیٹھے جیسے قعدہ میں بیٹھتے ہیں مگر قرأت کی حالت میں ہاتھ باندھے رہے جیسے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں باندھا جاتا ہے۔   (درمختار و ردالمحتار) 
مسئلہ۱۶:  وتر کے بعد جو دو رکعت نفل پڑھی جاتی ہے اِس میں اَلْحَمْدکے بعد پہلی رکعت میں اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ اور دوسری میں قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙپڑھنا بہتر ہے۔ 



________________________________
1 -      قال ابن الہمام   (رَحِمَہُ اللّٰہُ السَّلَام) :وحینئذ تقع الاولیان سنۃ  لوجود تمام علتہا والاخریان نفلا مندوبا فہذا القسم من النیۃ مما یحصل بہ کلا الامرین۔  (فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب النوافل،۱/۳۸۷)