Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
210 - 263
رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ ( 1) 
اور جس سے یہ بھی نہ بن پڑے وہ تین بار:  اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ   (2 ) کہے۔  ( عالمگیری)  دعائے قنوت ہمیشہ ہر شخص آہستہ پڑھے خواہ امام ہو یا مقتدی یا منفرد ، ادا ہو یا قضا، رمضان میں ہو یا اور دِنوں میں ۔   (ردالمحتار) 
مسئلہ۳:  وِتر کے سوا اور کسی نماز میں قنوت نہ پڑھے، ہاں اگر حادثہ عظیمہ واقع ہو تو فجر میں بھی پڑھ سکتا ہے اور اس میں بھی ظاہر یہ ہے کہ رکوع سے پہلے پڑھے جیسا کہ وتر میں ۔      (درمختار و بہار وغیرہ) 
مسئلہ۴:  اگر قعدہ اُولیٰ بھول کر کھڑا ہوگیا تو پھر بیٹھنے کی اجازت نہیں بلکہ آخر میں وہ سجدہ سہو کرے۔  (درمختار، ردالمحتار) 
مسئلہ۵:  اگر قنوت بھول جائے اور رکوع میں یاد آئے تو نہ رکوع میں پڑھے، نہ قیام کی طرف لوٹ کر کھڑے ہو کر پڑھے بلکہ چھوڑ دے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے نماز ہوجائے گی۔ 
مسئلہ۶:  وتر کی تینوں رکعتوں میں مطلقاً قرأت فرض ہے اور ہر رکعت میں بعد فاتحہ سورۃ ملانا واجب ہے۔ 
 مسئلہ۷:   بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں  سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ   یا  اِنَّآ اَنْزَلْنَا  پڑھے اور دوسری میں  قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ      اور تیسری میں  قُلْ هُوَ اللّٰهُ پڑھے اور کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھ لے۔ 



________________________________
1 -      اے ہمارے پروردگار! تو ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور ہم کو آخرت میں بھلائی دے اور ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا۔     		
2 -      اے  اللّٰہ! میری مغفرت فرما۔