مسئلہ۱۷: موت، جنون، بے ہوشی سے نماز جاتی رہتی ہے۔ اگر وقت میں آرام ہو جائے تو ادا پڑھے اور اگر وقت کے بعد آرام ہو تو قضا پڑھے، جب کہ جنون و بے ہوشی ایک دن رات سے زیادہ نہ ہو یعنی نماز کے چھ وقت کامل تک برابر نہ رہا ہوکہ اگر چھ وقت کامل تک برابر رہے قضا واجب نہیں ۔ (عالمگیری، درمختارو ردالمحتار)
مسئلہ۱۸: قصداً وُضو توڑا یا کوئی سبب غسل کا پایا گیا تو نماز جاتی رہی۔
مسئلہ۱۹: کسی رُکن کو ترک کیا جب کہ اُس کو اُسی نماز میں ادا نہ کرلیا ہو، نما زجاتی رہی۔
مسئلہ۲۰: بلا عذر نماز کی کسی شرط کو ترک کیا تو نماز ٹوٹ گئی۔
مسئلہ۲۱: قعدہ اخیرہ کے بعد سجدۂ نماز یا سجدۂ تلاوت یاد آیا اور اس کو ادا کیا اور ادا کرنے کے بعد پھر قعدہ نہ کیا تو نماز نہ ہوئی۔
مسئلہ۲۲: کسی رکن کو سوتے میں ادا کیا تھا اُس کا اِعادہ نہ کیا، نماز نہ ہوئی۔
نماز میں سانپ، بچھو مارنے کی صورت
مسئلہ۲۳: سانپ بچھو مارنے سے نماز نہیں ٹوٹتی، جب کہ نہ تین قدم چلنا پڑے نہ تین ضرب کی ضرورت ہو، اگر مارنے میں تین قدم یا زیادہ چلنا پڑا یا تین ضرب یا زیادہ لگانا پڑی تو نماز ٹو ٹ گئی۔
مسئلہ۲۴: نماز میں سانپ بچھو مارنے کی اجازت ہے اگرچہ نماز ٹوٹ جائے۔
مسئلہ۲۵: سانپ بچھو کو نماز میں مارنا اس وقت مباح (1 ) ہے جب سامنے سے گزرے اور تکلیف دینے کا ڈر ہو اور اگر کاٹنے کا ڈر نہ ہو تو مکروہ ہے۔ (عالمگیری)
________________________________
1 - مباح کے معنی جائز، حلال جس پر شریعت کی طرف سے کوئی روک نہیں۔ (۱۲منہ)