Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
191 - 263
مسئلہ۱۰:  آہ، اُوہ، اُف، تف یہ الفاظ دَرد یا مصیبت کی وجہ سے نکلے یا آواز سے رویا اور حروف پیدا ہوئے، اِن سب صورتوں میں نماز ٹوٹ گئی اور اگر رونے میں صرف آنسو نکلے اور حروف نہیں تو حر َج نہیں ۔  (عالمگیری، ردالمحتار) 
 مسئلہ۱۱:  مریض کی زبان سے بے اختیارآہ، اُوہ  نکلی تو نماز فاسد نہ ہوئی۔ یوہیں چھینک، کھانسی، جماہی، ڈکار میں جتنے حروف مجبوراً  ( بے اختیار)  نکلتے ہیں ، وہ معاف ہیں ۔  (درمختار) 
 مسئلہ۱۲:  پھونکنے کی اگر آواز پیدا نہ ہو تو وہ مثلِ سانس کے ہے کہ مفسد نہیں مگر قصدا ً کرنا مکروہ ہے اور اگر پھونکنے میں دو حرف پیدا ہوں ، جیسے اُف، تف  تو مفسد نماز ہے۔  (غنیۃ) 
 مسئلہ۱۳:  نماز میں قرآن، قرآن شریف سے یا محراب وغیرہ سے دیکھ کر پڑھنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ ہاں اگر پڑھتا تو ہے یاد سے اور نظر پڑتی ہے لکھے ہوئے پر، تو حرج نہیں ۔  (ردالمحتار) 
مسئلہ۱۴:  عملِ کثیر کہ نہ اَعمالِ نماز سے ہو، نہ نماز کی اصلاح کے لیے کیا گیا ہو، مفسد ِنماز ہے۔ عملِ قلیل مفسد نہیں جس کام کرنے والے کو دور سے دیکھ کر اس کے نماز میں نہ ہونے کا شک نہ رہے بلکہ گمان غالب ہو کہ نماز میں نہیں تو وہ عملِ کثیر ہے اور اگر دور سے دیکھنے والے کو شبہ و شک ہو کہ نماز میں ہے یا نہیں تو یہ عملِ قلیل ہے۔ 
مسئلہ۱۵:  کرتا یا پاجامہ پہنایا تہبند باندھا تو نماز جاتی رہی۔ 
مسئلہ۱۶:  نماز کے اندر کھانا پینا مطلقاً نماز کو فاسد کردیتا ہے جان کر ہو یا بھول کر ہو، تھوڑا ہو یا زیادہ ہو یہاں تک کہ اگر تل بلا چبائے نگل لیا یا کوئی بوند منہ میں گری اور نگل لیا نماز جاتی رہی۔