Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
190 - 263
نماز فاسد کرنے والی چیزوں کا بیان 
 مسئلہ۱:  کلام مفسد ِنماز ہے یعنی نماز میں بولنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، چاہے جان بوجھ کر بولے یا بھولے سے ایک آدھ بات بولے یا زیادہ۔  
مسئلہ۲:  کلام وہی مفسد ہے جس میں اتنی آواز ہو کہ کم سے کم خود سن سکے، اگر کوئی مانع نہ ہو۔ 
مسئلہ۳:  کسی کو بھولے سے بھی سلام کیا تو نماز جاتی رہی چاہے خالی اَلسَّلَام ہی کہا ہو عَلَیْکُم نہ کہہ پایا ہو۔ 
 مسئلہ۴:  زبان سے سلام کا جواب دیا تو نماز جاتی رہی اور ہاتھ یا سر کے اشارے سے دیا تو مکروہ ہوئی۔  (درمختار، عالمگیری) 
 مسئلہ۵:   نماز میں چھینک آئے تواَلْحَمْدُ لِلّٰہ نہ کہے اگر کہہ دیا تو نمازنہ گئی۔ (عالمگیری) 
مسئلہ۶:  خوشی کی خبر کے جواب میں اَلْحَمْدُ    لِلّٰہ  کہا یا بُری خبر پراِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ پڑھا یا تعجب کی خبر سن کر سُبْحٰنَ اللّٰہ   کہایا اَللّٰہُ اَکْبَر کہا تو نماز جاتی رہی ہاں اگر خبر کے جواب کا ارادہ نہ کیا تو نہ گئی۔  
مسئلہ۷: کھکھارنے میں جب دو حرف نکلے جیسے اُخ تو یہ مفسد نماز ہے جب کہ نہ عذر ہو، نہ صحیح غرض ہو۔ اگر عذر سے ہو جیسے طبیعت نے مجبور کیا یا صحیح غرض کے لیے جیسے قرأ ت میں آواز صاف کرنے کے لیے یا امام کو غلطی پر اطلاع دینے کے لیے یا دوسرے کو اپنی نماز میں ہونے کی اطلاع دینے کے لیے ہو تو اس سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ 
مسئلہ۸:  مقتدی نے اپنے امام کے سوا کسی اور کو لقمہ دیا، نمازجاتی رہی۔ 
مسئلہ۹:  امام نے اپنے مقتدی کے سوا کسی اور کا لقمہ لیا، نماز فاسد ہوگئی۔