Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
187 - 263
مسئلہ۳۸:  چار رکعت والی نماز میں اگر پہلی رکعت کا سجدہ کرلیا تو نہ توڑے بلکہ ایک رکعت اور پڑھ کر دو پر قعدہ کرکے سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہوجائے۔ 
 مسئلہ۳۹:  اگر تین رکعتیں پوری پڑھ لیں اور جماعت قائم ہوئی تو جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا اپنی ہی چاروں پوری کرے اور بعد میں نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہوجائے مگر عصر میں شامل نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ عصر کے بعد نفل جائز نہیں ۔
مسئلہ۴۰:  چار رکعت والی نماز میں تیسری رکعت کا ابھی سجدہ نہ کیا تھا کہ جماعت ہوئی تو نماز توڑ دے اور جماعت میں شریک ہوجائے۔  
مسئلہ۴۱:  نماز توڑنے کے لیے بیٹھنے کی ضرورت نہیں کھڑے کھڑے توڑنے کی نیت سے ایک طرف سلام پھیر دے۔   
مسئلہ۴۲:  نفل یا سنت یا قضا شروع کی اور جماعت قائم ہوئی تو نماز نہ توڑے پوری کرکے شامل ہو البتہ اگر نفل چار رکعت کی نیت سے شروع کی تو دو رکعت پر توڑ دے تیسری اور چوتھی میں ہو تو پوری کرے۔ 
مسئلہ۴۳:  جماعت میں ملنے کے لیے نماز توڑنے کا حکم اس وقت ہے جب کہ جماعت اس جگہ قائم ہو جہاں یہ پڑھ رہا ہے۔ اگر یہ گھر میں پڑھ رہا ہے اور مسجد میں جماعت قائم ہوئی توڑنے کا حکم نہیں یا یہ کہ ایک مسجد میں پڑھ رہا ہے اور جماعت دوسری مسجد میں شروع ہوئی تو نہیں توڑ سکتا۔ اگرچہ ابھی پہلی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تب بھی نہیں توڑ سکتا۔  
                                                                                                         (ردالمحتار)  
مسئلہ۴۴:  قیام و رکوع و سجود و قعدہ اخیرہ میں ترتیب فرض ہے۔ اگر قیام سے پہلے رکوع