مسئلہ۳۳: مسبوق مغرب کی تیسری رکعت میں شریک ہوا تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوجائے اَلْحَمْد و سورۃ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر قعدہ کرکے پھر کھڑا ہوجائے اوراَلْحَمْد و سورۃ پڑھ کر رکعت پوری کرے اور قعدہ اَخیرہ کرکے نماز ختم کرے۔ یعنی اپنی دونوں رکعتوں میں ہر رکعت پر قعدہ کرے اور دونوں رکعتوں میں اَلْحَمْداور سورۃ پڑھے۔ اس میں بھی دو قعدے ہوئے علاوہ امام کے قعدہ کے۔
مسئلہ۳۴: چار رکعت والی نماز کی تیسری ر کعت میں شامل ہو ا تو امام کے بعد دو رکعت اور پڑھے اور ان دونوں میں اَلْحَمْداور سورۃ ضرور پڑھے۔
مسئلہ۳۵: پہلی رکعت چھوٹ گئی تو امام کے بعد ایک رکعت پڑھے اَلْحَمْد اور سورۃ کے ساتھ۔
مسئلہ۳۶: مسبوق نے بھول کر امام کے ساتھ سلام پھیر دیا تو نماز نہ گئی، پوری کرے۔ اگر بالکل ساتھ ساتھ پھیرا ہے تو سجدہ سہو بھی نہیں اور اگر امام کے ذرا بعد پھیرا تو سجدہ سہو واجب ہے اور اگر قصداً سلام پھیرایہ سمجھ کر کہ مجھے بھی امام کے ساتھ سلام پھیرنا چاہیے تو نماز جاتی رہی پھر سے پڑھے۔ (ردالمحتار،درمختار)
کب فرض توڑ کر جماعت میں شریک ہوجائے
مسئلہ۳۷: کسی نے چار رکعت والی فرض نماز اکیلے شروع کی اور ابھی پہلی رکعت کا سجدہ نہ کرنے پایا تھا کہ وہیں جماعت شروع ہوئی تو اپنی نماز توڑ کر جماعت میں شریک ہوجائے اور فجر اور مغرب میں تو اگر پہلی رکعت کا سجدہ بھی کرلیا ہو تو بھی توڑ کر شریک ہوجائے۔