Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
181 - 263
کن عذروں سے جماعت چھوڑ سکتا ہے ؟
	 اِن عذروں سے جماعت چھوڑ سکتا ہے: ایسی بیماری کہ مسجد تک جانے میں مشقت ہو۔ سخت بارش، بہت کیچڑ، سخت سردی، سخت اندھیرا، آندھی، پاخانہ پیشاب ریاح کا بہت زور ہونا، ظالم کا خوف، قافلہ چھوٹ جانے کا ڈر، اندھا ہونا، اپا ہج ہونا، اِتنا بوڑھا ہونا کہ مسجد تک جانے سے مجبور ہو، مال یا کھانے کے ہلاک ہو جانے کا ڈر، مفلس ( 1)   کو قرض خواہ کا ڈر، بیمار کی دیکھ بھال کہ یہ اگر چھوڑ کر چلا جائے گا تو اِس کو تکلیف ہوگی یا گھبرائے گا، یہ سب جماعت چھوڑنے کے عذر ہیں ۔  
مسئلہ۹:  عورتوں کو کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں ۔ دن کی نماز ہو یا رات کی، جمعہ کی ہو یا عیدین کی، چاہے جوان ہوں یا بڑھیا۔ یوہیں وعظ کی مجلس میں جانا ناجائز ہے۔	  (درمختار، بہار شریعت) 
ایک مقتدی کہاں کھڑا ہو ؟
مسئلہ۱۰:  اکیلا مقتدی مرد اگرچہ لڑکا ہو امام کے برابر دا  ہنی طرف کھڑا ہو۔ بائیں طرف یا پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے، دو مقتدی ہوں تو پیچھے کھڑے ہوں ، برابر کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے۔ دو سے زیادہ کا امام کے برابر کھڑا ہونا مکروہ تحریمی ہے۔  (درمختار و بہار) 
مسئلہ۱۱:  ایک آدمی امام کے برابر کھڑا تھا پھر ایک اور آیا تو امام آگے بڑھ جائے اوریہ آنے والا اس مقتدی کے برابر کھڑا ہوجائے اور اگر امام آگے نہ بڑھے تو یہ مقتدی پیچھے



________________________________
1 -      مفلس وہ ہے کہ نہ اس کے پاس روپیہ ہے، نہ متاع  (سامَان)  وغیرہ۔  (بہارشریعت،ج۳،حصہ۱۶،ص۵۴۴)