کہ یہ ناجائز ہے بلکہ قواعد ِتجوید کی رعایت کرے۔ (درورد )
مسئلہ۲۶: قرآنِ مجید دیکھ کر پڑھنا زبانی پڑھنے سے افضل ہے۔ (عالمگیری) مستحب یہ ہے کہ باوُضو قبلہ ُرو اچھے کپڑے پہن کر تلاوت کرے اور تلاوت کے شروع میں اَعُوْذُ بِاللّٰہ پڑھنا مستحب ہے (1 ) اور سورۃ کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہپڑھنا سنت ہے ورنہ مستحب اگر آیت پڑھنا چاہتا ہے اور اس آیت کے شروع میں ایسی ضمیر ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے، جیسے ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَآاِلٰہَ اِلَّاھُو تو اِس صورت میں اَعُوْذُ بِاللّٰہ کے بعد بِسْمِ اللّٰہ پڑھنے کا استحباب مؤکد ہے۔ بیچ میں کوئی دنیوی کام کرے تو بِسْمِ اللّٰہ پھر پڑھ لے اور دینی کام کیا جیسے سلام کا جواب دیایا اَذان کا جواب دیا یا سُبْحَانَ اللّٰہ کہا یا کلمہ وغیرہ اَذکار پڑھے تو
________________________________
1 - قانون شریعت کے دیگر نسخوں میں یہاں اَعُوْذُ بِاللّٰہ پڑھنا واجب لکھا ہے جو کہ درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ تلاوت کے شروع میں اَعُوْذُ بِاللّٰہ پڑھنا مستحب ہے جیسا کہ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فتاویٰ فیض الرسول میں فرماتے ہیں: ’’ تلاوت کے شروع میں اَعُوْذُ بِاللّٰہپڑھنا مستحب ہے واجب نہیں اور بے شک بہارِ شریعت میں واجب چھپا ہے جس پر غنیہ کا حوالہ ہے حالانکہ غنیہ مطبوعہ رحیمیہ ص۴۶۳ میں ہے : ’’ التعوّذ یستحب مرۃً واحدۃً مالم یفصل بعمل دنیوی۔‘‘ (یعنی ایک مرتبہ تعوذ پڑھنا مستحب ہے جب تک اس تلاوت میں کوئی دنیاوی کام حائل نہ ہو) تو معلوم ہوا کہ بہارِ شریعت میں بہت سے مسائل جو ناشرین کی غفلتوں کی وجہ سے غلط چھپ گئے ہیںاُن میں سے ایک یہ بھی ہے اور قانونِ شریعت، سنی بہشتی زیور اور جنتی زیورمیں بہار شریعت پر اعتماد کرکے واجب لکھ دیا گیامگر صحیح یہی ہے کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہ پڑھنا مستحب ہے واجب نہیں جیسا کہ تفسیر خازن، جلداوّل، ص۱۴ میں ہے: ’’ یستحب لقاریٔ القرآن خارج الصلوۃ ان یتعوّذ ایضاً (یعنی نماز کے علاوہ قرآن پڑھنے والے کے لیے تعوذ پڑھنا مستحب ہے ) (فتاویٰ فیض الرسول، ۱/۳۵۱) ‘‘ لہٰذا ہم نے یہاں واجب کی جگہ مستحب لکھ کر تصحیح کردی ہے۔ اسی طرح مکتبۃ المدینہ سے بہار شریعت اور جنتی زیور بھی تصحیح کے ساتھ شائع کی گئی ہیں۔المدینۃ العلمیۃ