Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
174 - 263
 مسئلہ۱۶:  اگر بھول کر دوسری رکعت میں پہلے والی سورۃ شروع کردی تو چاہے ابھی ایک ہی لفظ پڑھا ہو اُسی کو پورا کرے، دوسری پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ مثلاً پہلی رکعت میں     قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙپڑھی اور دوسری میں بھولے سے اَلَمْ تَرَ كَیْفَ شروع کردی تو اُسی کو پڑھے۔ 
درمیان سے سورت چھوڑنے کا حکم 
 مسئلہ۱۷:  درمیان میں ایک سورۃ چھوڑ کر پڑھنا مکروہ ہے لیکن اگر درمیان کی سورۃ پہلی سے بڑی ہو تو چھوڑ سکتا ہے۔ مثلاً وَ التِّیْنِ کے بعد اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ پڑھنے میں حر َج نہیں اور اِذَا جَآءَ کے بعد قُلْ هُوَ اللّٰهُ پڑھنا نہ چاہیے۔  (درمختار وغیرہ) 
 مسئلہ۱۸:  بہتر یہ ہے کہ فرض نمازوں میں پہلی رکعت کی قرأ ت دوسری رکعت سے کچھ زیادہ ہو اور فجر میں تو پہلی رکعت میں دو تہائی اور دوسری میں ایک تہائی ہو۔  (عالمگیری)  
 مسئلہ۱۹:  جمعہ و عیدین کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ دوسری میں هَلْ اَتٰىكَ پڑھنا سنت ہے۔  (درمختا ر، ردالمحتار) 
 مسئلہ۲۰:  سنتوں اور نفلوں کی دونوں رکعتوں میں برابر کی سورتیں پڑھے۔  (منیہ)  
 مسئلہ۲۱:  نوافل کی دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت پڑھنا یا ایک رکعت میں اِسی سورۃ کو بار بار پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔  (غنیۃ) 
قرأ ت میں غلطی ہوجانے کا بیان 
	اس میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ جائیں تو نماز فاسد ہوگئی ورنہ نہیں ۔