کے وتر میں امام پر جہر واجب ہے اور مغرب کی تیسری رکعت میں اور عشاء کی تیسری اور چوتھی رکعت میں ظہر و عصرکی سب رکعتوں میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔
مسئلہ۳: جہر کے یہ معنی ہیں کہ اتنی زور سے پڑھے کہ کم از کم پہلی صف کے لوگ سن سکیں اور آہستہ یہ کہ خود سن سکے۔
مسئلہ۴: اس طرح پڑھنا کہ قریب کے دو ایک آدمی سن سکیں جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے۔ (درمختار)
مسئلہ۵: جہری نمازوں میں اکیلے کو اختیار ہے چاہے زور سے پڑھے چاہے آہستہ اور افضل جہر ہے۔
مسئلہ۶: اگر منفرد قضا پڑھے تو ہر نماز میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ (درمختار)
مسئلہ۷: آہستہ پڑھ رہا تھا کہ دوسرا شخص شامل ہوگیا تو جو باقی ہے اُسے جہرسے پڑھے اور جو پڑھ چکا ہے اُس کا اِعادہ نہیں ۔
مسئلہ۸: سورت ملانا بھول گیا رکوع میں یاد آیا تو کھڑا ہوجائے اور سورۃ ملائے پھر رکوع کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اگر دوبارہ رکوع نہ کرے گا تو نماز نہ ہوگی۔ (درمختار)
مسئلہ۹: حضر میں (1 ) جب کہ وقت تنگ نہ ہو تو سنت یہ ہے کہ فجر و ظہر میں طوالِ مفصل پڑھے اور عصر و عشاء میں اَوساطِ ِمفصل پڑھے اور مغرب میں قصار ِمفصل، چاہے امام ہو یا منفرد۔ ( درمختار وغیرہ)
کون کون سی سورتیں طوالِ مفصل ہیں اور کون سی قصار ِمفصل
فائدہ: سورۂ حجرات سے سورۂ بروج تک کی سورتیں طوالِ مفصل کہلاتی ہیں اور سورۂ بروج سے
________________________________
1 - حالت ِاقامت میں ہو یعنی سفر میں نہ ہو۔