میں ہے سجدہ کرے ( اگرچہ سلام پھیر چکا ہو) اور سجدہ سہو بھی کرے۔ (درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ۲۸: نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور اس کا سجدہ نماز ہی میں واجب ہے نماز کے باہر نہیں ہوسکتا اگر قصداً نہ کیا تو گنہگار ہوا توبہ لازم ہے جب کہ آیت سجدہ کے بعد فوراً رکوع اور سجود نہ کیا ہو۔
مسئلہ۲۹: سجدہ تلاوت کی نیت میں شرط نہیں کہ فلاں آیت کا سجدہ ہے بلکہ مطلقاً سجدہ تلاوت کی نیت کافی ہے۔
مسئلہ۳۰: جو چیزیں نماز کو فاسد کرتی ہیں ان سے سجدہ تلاوت بھی فاسد ہوجائے گا جیسے حدثِ عمد و کلام، قہقہہ۔ (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۳۱: آیت سجدہ لکھنے یا اُس کی طرف دیکھنے سے سجدہ واجب نہیں ۔ ( قاضی خان، عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ۳۲: سجدہ واجب ہونے کے لیے پوری آیت پڑھنا ضروری نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادہ پایا جاتا ہو وہ اور اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھنا کافی ہے۔ ( 1)
(درمختار)
مسئلہ۳۳: آیت سجدہ کی ہجے کرنے یا ہجے سننے سے سجدہ واجب نہ ہوگا۔ (عالمگیری،درمختار، قاضی خان)
________________________________
1 - اعلیٰ حضرت، امامِ احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: سجدہ واجب ہونے کے لئے پوری آیت پڑھنا ضروری ہے لیکن بعض عُلَمائے مُتَأَخِّرِین کے نزدیک وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادّہ پایا جاتا ہے اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھاتوسجدہ تلاو ت واجب ہوجاتاہے لہٰذا اِحتیاط یہی ہے کہ دونوں صورَتوں میں سجدہ تلاوت کیا جائے۔ (فتاویٰ رضویہ،۸/۲۲۳۔۲۳۳ملخصاً )