رَبِّیَ الْاَعْلٰی نہ پڑھا تو بھی سجدہ ادا ہوجائے گا مگر تکبیر چھوڑنا نہ چاہیے کہ سلف کے خلاف ہے۔ (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ۲۳: سجدہ تلاوت کے لیے اَللّٰہُ اَکْبَرکہتے وقت نہ ہاتھ اُٹھانا ہے نہ اس میں تشہد ہے، نہ سلام۔ (تنویر و بہار)
مسئلہ۲۴: کل قرآن شریف میں چودہ آیتیں سجدہ تلاوت کی ہیں ،اِن میں سے جو آیت بھی پڑھی جائے گی، پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدہ واجب ہوجائے گاچاہے سننے والے نے سننے کا ارادہ کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
سجدۂ تلاوت کے شرائط
مسئلہ۲۵: سجدۂ تلاوت کے لیے تحریمہ کے سوا تمام وہ شرائط ہیں جو نماز کے لیے ہیں مثلاً طہارت، اِستقبال قبلہ ، نیت، وقت، ستر عورت لہٰذا اگر پانی پر قادر ہے تو تیمم کرکے سجدہ جائز نہیں ۔ (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۲۶: اگر آیت سجدہ نمازمیں پڑھے تو سجدہ تلاوت فورا ًکرنا نماز ہی میں واجب ہے اگر دیر کرے گا گنہگار ہوگا۔ دیر کرنے سے مراد تین آیت سے زیادہ پڑھ لینا ہے لیکن اگر سورۃ کے آخر میں سجدہ واقع ہے تو سورت پوری کرکے سجدہ کرے گا، جب بھی حرج نہیں مثلاً سورۂ انشقاق میں سورۃ ختم کرکے سجدہ کرے جب بھی کچھ حرج نہیں ۔
مسئلہ۲۷: سجدہ کی آیت نماز میں پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا تو جب تک حرمت (1 ) نماز
________________________________
1 - حرمت نماز میں ہونے سے مراد یہ ہے کہ کوئی کام ایسا نہ کیا ہو جو منافی نماز ہے مثلاً: وضو نہ توڑا ہو، کچھ نہ کھایا پیا ہو کچھ بات نہ کی ہو تو باوجود سلام پھیر لینے کے ابھی حرمت نماز میں ہے۔ (۱۲منہ)