Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
163 - 263
سجدہ ء     سہو کا بیان
سجدہ سہو کب واجب ہے؟
	جو چیزیں نماز میں واجب ہیں اُن میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سجدہ سہو واجب ہے۔
سجدۂ  سہو کا طریقہ 
	اس کا طریقہ یہ ہے کہ نماز کے آخر میں اَلتَّحِیَّات پڑھنے کے بعد دا  ہنی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرے اور پھر شروع سے اَلتَّحِیَّات وغیرہ سب پڑھ کر سلام پھیر دے۔
مسئلہ۱:  اگر کوئی واجب چھوٹ گیا اور اس کے لیے سجدہ سہو نہ کیا اور نماز ختم کردی تو نماز دُہرانا واجب ہے۔
مسئلہ۲:  اگر قصداً کوئی واجب چھوڑ دیا تو سجدہ سہو کافی نہیں بلکہ نماز دُہرانا واجب ہے۔
مسئلہ۳:  جو باتیں نماز میں فرض ہیں اگر اُن میں سے کوئی بات چھوٹ گئی تو نماز نہ ہوئی اور سجدہ سہو سے بھی یہ کمی پوری نہیں کی جاسکتی بلکہ پھر سے پڑھنا فرض ہے۔
کن باتوں کے چھوٹنے سے سجدہ سہو نہیں ؟
مسئلہ۴:  وہ باتیں جو نماز میں سنت ہیں یا مستحب ہیں جیسے تعوذ، تسمیہ، آمین،تکبیرات ِانتقال، تسبیحات ان کے ترک سے بھی سجدہ سہو نہیں ، بلکہ نماز ہوگئی۔  (ردالمحتار، غنیۃ)  مگر نماز دُہرا لینا بہتر ہے۔