میں ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا، جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا، قعدہ اُولیٰ اگرچہ نماز نفل ہو، فرض اور وتر اور سنن رَواتب (1 ) میں قعدہ اُولیٰ میں تشہد پر کچھ نہ بڑھانا، دونوں قعدوں میں پور ا تشہد پڑھنا، یوں ہی جتنے قعدے کرنے پڑیں سب میں پورا تشہد واجب ہے ایک لفظ بھی اگر چھوڑ ے گا تو ترک واجب ہوگا، دونوں سلام میں فقط لفظ اَلسَّلَام واجب ہے، عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ واجب نہیں ، وتر میں دعائے قنو ت پڑھنا،تکبیر قنوت، عیدین کی چھیئوں تکبیریں ، عیدین میں دوسری رکعت کی تکبیر رکوع اور اس تکبیر کے لیے لفظ اَللّٰہُ اَکْبَر ہونا، ہر جہری نماز ( 2) میں امام کو جہر سے قرأت کرنا اور غیر جہری میں آہستہ، ہر فرض و واجب کا اُس کی جگہ پر ادا ہونا، (3 ) رکوع کا ہر رکعت میں ایک ہی بار ہونا اور سجود کا دو ہی بار ہونا، دوسری رکعت سے پہلے قعدہ نہ کرنا اور چار رکعت والی میں تیسری پر قعدہ نہ ہونا، آیت سجدہ پڑھی ہو تو سجدہ تلاوت کرنا، سہو ہوا ہو تو سجدہ سہو کرنا، دو فرض یا دو واجب یا واجب و فرض کے درمیان تین بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہنے کے برابر دیر نہ ہونا، امام جب قرأ ت کرے بلند آواز سے ہو یا آہستہ اس وقت مقتدی کا چپ رہنا، سوا قرأ ت کے تمام واجبات میں امام کی پیروی کرنا، فرائض و واجبات کے علاوہ جو باتیں طریقہ نماز میں بیان ہوئی وہ یا سنت ہیں یا مستحب ہیں ، اُن کو قصداً نہ چھوڑ اجائے اور اگر غلطی سے چھوٹ جائیں تو نہ سجدہ سہو کرنے کی ضرورت ہے نہ نماز دہرانے کی، اگر دہرالے تو اچھا ہے، اگر سنن و مستحبات کی پوری تفصیل معلوم کرنا چاہیں تو بہار شریعت وفتاویٰ رضویہ ملاحظہ کریں ہم نے بلحاظِ اِختصار و سہولت حفظ یہاں ذِکر نہیں کیا۔
________________________________
1 - سنن مؤکدہ
2 - وہ نماز جس میں امام بلند آوازسے قرأت کرے مثلاًفجر ، مغرب ،عشاء وغیرہ۔
3 - جگہ پر ادا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو پہلے ہو وہ پہلے اور جو پیچھے ہو وہ پیچھے۔ ۱۲ منہ