Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
161 - 263
 {۳}  قرأت: یعنی کم سے کم ایک آیت پڑھنا۔
 {۴}  رکوع: یعنی اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنے تک پہنچ جائیں ۔
 {۵}  سجود: یعنی ماتھے کا زمین پر جمنا اس طرح کہ کم سے کم پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین سے لگا ( 1) ہو۔ 
 {۶}   قعدہ اخیرہ:  یعنی نماز کی رکعتیں پوری کرنے کے بعد اتنی دیر بیٹھنا کہ پوری اَلتَّحیات رَسُوْلہ تک پڑھی جاسکے۔
 {۷}  خروج بِصُنْعِہٖ: یعنی قعدئہ اخیرہ کے بعد اپنے ارادہ و عمل سے نماز ختم کردینا، خواہ سلام و کلام سے ہو یا کسی دوسرے عمل سے۔ 
واجباتِ نماز 
	تکبیر تحریمہ میں لفظ اَللّٰہُ اَکْبَر کہنا، پوری اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پڑھنا، سورۃ یا آیت ملانا، فرض نماز میں دو پہلی رکعتوں میں قرأت واجب ہے، اَلْحَمْد اور اس کے ساتھ سورۃ یا آیت ملانا، فرض کی دو پہلی رکعتوں میں اور نفل اور وتر اور سنت کی ہر رکعت میں سورۃ یا آیت سے پہلے ایک ہی باراَلْحَمْد پڑھنا اور اَلْحَمْد اور سورت کے درمیان آمیناور      بِسْمِ اللّٰہ کے سوا کچھ اور نہ پڑھنا، قرأ ت ختم کرکے فوراً رکوع کرنا، ایک سجدہ کے بعد دوسرا سجدہ ہونا کہ دونوں سجدوں کے بیچ میں کوئی رکن نہ آنے پائے، تعدیل ارکان یعنی رکوع، سجود، قومہ، جلسہ میں کم سے کم ایک بارسُبْحٰنَ اللّٰہ کے برابر ٹھہرنا، قومہ یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہوجانا، سجدہ 



________________________________
1 -      لہٰذا اگر اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اُٹھے رہے یا صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی تو نماز نہ ہوگی۔  (درمختار، فتاویٰ رضویہ، بہارشریعت)  (۱۲منہ) ۔ ( بہارشریعت،حصہ۳، ۱/۵۱۳)