نماز کی چھٹی شرط کا بیان:
تکبیر تحریمہ کس کو کہتے ہیں
نماز کی چھٹی شرط تکبیر تحریمہ ہے یعنی نیت کے وقت جو اَللّٰہُ اَکْبَر کہی جاتی ہے اس کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں ۔ اِس تکبیر کے کہتے ہی نماز شروع ہوگئی، یہ فرض ہے بغیر اس کے نماز شروع نہیں ہوتی۔
مسئلہ۱: مقتدی نے امام سے پہلے تکبیر تحریمہ کہہ لی تو جماعت میں شامل نہ ہوا۔
اب جب کہ نماز کے چھئوں شرائط یعنی طہارت، ستر عورت، وقت، استقبال قبلہ، نیت اور تکبیر تحریمہ کے مسائل بیان ہوچکے تو نماز پڑھنے کا طریقہ بیان کیا جاتا ہے۔
نماز کا طریقہ
نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ باوضو قبلہ کی طرف منہ کرکے اس طرح کھڑا ہو کہ دونوں پنجوں میں چار اُنگل کا فاصلہ رہے اور دونوں ہاتھ کانوں تک لے جائے کہ انگوٹھے کانوں کی لو سے چھو جائیں ، باقی انگلیاں اپنے حال پر رہیں ، نہ بالکل ملی، نہ بہت پھیلی اور ہتھیلیاں قبلہ کی طرف ہوں اور نگاہ سجدہ کی جگہ پر ہو اور جس وقت کی جو نماز پڑھتا ہو دل میں اُس کا پکا ارادہ کرکے اَللّٰہُ اَکْبَر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لا کر ناف کے نیچے باندھ لے، اس طرح کہ داہنی ہتھیلی کی گدی بائیں کلائی کے سرے پر ہو اور بیچ کی تینوں انگلیاں بائیں کلائی کی پیٹھ پر اور انگوٹھا اور چھوٹی انگلی کلائی کے اَگل بغل ہو اور ثناء پڑھے یعنی: