نہ آئے گی۔ اِسی طرح اگر چار رکعتیں چار طرف میں پڑھی، جائز ہے اور اگر فوراً نہ گھوما اور تین بارسُبْحٰنَ اللّٰہ کہنے کے برابر دیر کی تو نماز نہ ہوئی۔ (درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ۱۱: نماز ی نے قبلہ سے بلا عذر قصدا ًسینہ پھیر دیا اگر چہ فوراً ہی قبلہ کی طرف ہوگیا نماز جاتی رہی اور اگر بلا قصد پھر گیا اور تین تسبیح کا وقفہ نہ ہوا تو نماز ہوگئی۔ ( منیہ وبحر)
مسئلہ۱۲: اگر صرف منہ قبلہ سے پھرا تو واجب ہے کہ فوراً قبلہ کی طرف کرلے نماز نہ جائے گی مگر بلا عذر پھیرنا مکروہ ہے۔ (منیہ)
پانچویں شرط :
نیت کا بیان
نماز کی نیت: نیت سے مراد دل کا پکا اِرادہ ہے محض تصورو خیال کافی نہیں جب تک اِرادہ نہ ہو۔
مسئلہ۱: اگر زبان سے بھی کہہ لے تو اچھا ہے مثلاً یوں کہ نیت کی میں نے دو رکعت فرض فجر کی اللّٰہ تعالیٰ کے لیے منہ میرا کعبہ شریف کی طرف اَللّٰہُ اَکْبَر۔
مسئلہ۲: مقتدی کو اِقتداء کی نیت بھی ضروری ہے۔
مسئلہ۳: اِمام نے امام ہونے کی نیت نہ کی جب بھی مقتدیوں کی نماز اِس کے پیچھے صحیح ہے لیکن ثواب جماعت نہ پائے گا۔
مسئلہ۴: نماز جنازہ کی نیت یہ ہے: نیت کی میں نے نماز کی اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کے لیے اور دعا کی اس میت کے لیے اَللّٰہُ اَکْبَر۔