Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
153 - 263
مسئلہ۴: کسی کے پاس اپنایا اَمانت کا مال ہے اور جانتا ہے کہ قبلہ رُو ہونے میں چوری ہوجائے گی تو جس طرف چاہے پڑھے۔ 
مسئلہ۵:  شریر جانور پر سوار ہے کہ اُترنے نہیں دیتا یا اُتر تو جائے گا مگر بے مددگار کے سوار نہ ہونے دے گا یا یہ بوڑھا ہے کہ پھر خود سوار نہ ہوسکے گا اور اگر ایسا نہیں جو سوار کرادے توجس رُخ بھی نماز پڑھے ہوجائے گی۔  
مسئلہ۶:  اگر سواری روکنے پر قادِر ہے تو روک کر پڑھے اور ممکن ہو تو قبلہ کو منہ کرے ورنہ جیسے بھی ہوسکے پڑھے، اگر سواری روکنے میں قافلہ نظر سے چھپ جائے گا تو سواری ٹھہرانا بھی ضروری نہیں چلتے ہی پڑھے۔   (ردالمحتار)  
مسئلہ۷:  چلتی کشتی میں نماز پڑھے تو تحریمہ (1 )   کے وقت قبلہ کو منہ کرے اور جیسے جیسے کشتی گھومتی جائے خود بھی قبلہ کو منہ پھیرتا رہے چاہے فرض نماز ہو یا نفل۔  (غنیہ)  
اگر قبلہ معلوم نہ ہو 
مسئلہ۸:  اگر قبلہ نہ معلوم ہواور کوئی بتانے والابھی نہ ہو تو سوچے جدھر قبلہ ہونے پر دل جمے اُسی طرف نماز پڑھے اس کے حق میں وہی قبلہ ہے۔  (منیہ) 
مسئلہ۹:  تحری کرکے یعنی سوچ کر نماز پڑھی بعد میں معلوم ہوا کہ قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھی تو دُہرانے کی ضرورت نہیں ، یہ نماز ہوگئی۔  (منیہ) 
مسئلہ۱۰:  تحری کرکے نماز پڑھ رہا تھا اور درمیان میں اگرچہ سجدہ سہو میں ہو، رائے بدل گئی یا غلطی معلوم ہوئی تو فرض ہے کہ فوراً گھوم جائے اور پہلے جتنی پڑھ چکا ہے اُس میں خرابی



________________________________
1 -      یعنی تکبیر ِتحریمہ