مسئلہ۲۰: اَذان مِئْذَنَہ (1 ) پر کہی جائے یا خارج مسجد کہی جائے، مسجد میں اَذان نہ کہے۔ (خلاصہ و عالمگیری و قاضی خان)
اَذان کا جواب
جب اَذان سنے تو جواب دینے کا حکم ہے یعنی مؤذّن جو کلمہ کہے اس کے بعد سننے والا بھی وہی کلمہ کہے مگر حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ ( 2) اورحَیَّ عَلَی الْفَلَاح ( 3) کے جواب میں لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ (4 ) کہے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں کہے بلکہ اتنا اور بڑھائے: مَاشَاء اللّٰہُ کَانَ وَمَالَمْ یَشَاْ لَمْ یَکُن۔ (5 ) (ردالمحتار وعالمگیری)
مسئلہ۲۱: اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌمِّنَ النَّوْم ( 6) کے جواب میں صَدَ قْتَ وَبَرَرْتَ وَبِالْحَقِّ نَطَقْتَ ( 7) کہے۔ (د رمختار ورد المحتار)
اَذان ہوتے وقت تمام مشاغل بند کردیئے جائیں
مسئلہ۲۲: جُنُب بھی اَذان کا جواب دے۔ حیض و نفاس والی عورت پر اور خطبہ سننے والے اور نماز جنازہ پڑھنے والے اور جو جماع میں مشغول ہے یا قضائے حاجت میں ہو اُن پر واجب نہیں ۔
________________________________
1 - مینارہ
2 - نماز پڑھنے کے لیے آؤ۔
3 - نجات پانے کے لیے آؤ۔
4 - نیکی کرنے کی قوت اور برائی سے بچنے کی طاقت اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ہی کی طرف سے ہے۔
5 - جو اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) نے چاہاہوا، جو نہیں چاہا نہ ہوا۔
6 - نماز نیند سے بہتر ہے۔
7 - تو سچا اور نیکو کار ہے اور تونے حق کہا ہے۔