Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
148 - 263
 کہنا مکروہ ہے۔  (مراقی الفلاح)  
مسئلہ۱۴:  جمعہ کے دن شہر میں ظہر کی نماز کے لیے اَذان ناجائز ہے اگرچہ ظہر پڑھنے والے معذور ہوں ، جن پر جمعہ فرض نہ ہو۔  (درمختار و ردالمحتار) 
اَذان کون کہے ؟
مسئلہ۱۵:  اَذان وہ کہے جو نماز کے وقتوں کو پہچانتا ہو اور وقت نہ پہچانتا ہو تو اس ثواب کے لائق نہیں جو مؤذّن کے لیے ہے۔  (بزازیہ، عالمگیری وغنیۃ وقاضی خان) 
 مسئلہ۱۶:  اگر مؤذّن ہی امام بھی ہو تو بہتر ہے۔  (عالمگیری) 
اَذان کے درمیان بات کرنے کا حکم  
مسئلہ۱۷:  اَذان کے بیچ میں بات چیت کرنا منع ہے، اگر کچھ بات کی تو پھر سے اَذان کہے۔  (صغیری) 
اَذان میں لحن کا حکم 
مسئلہ۱۸: اَذان میں لحن حرام ہے یعنی گانے کے طور پر اَذان دینا یا اللّٰہ کے الف کو مد کے ساتھ ا ٓللّٰہ  کہنا  یا  اَکْبَر کے الف کو کھینچ کر  ا ٓکْبَر کہنا  یا  اَکْبَر کی ’’  ب  ‘‘  کو کھینچ کر اَکْبَار کہہ دینا، یہ سب حرام ہے البتہ اچھی اور اُونچی آواز سے اَذان کہنا بہتر ہے۔ (ہندیہ ودرمختاروردالمحتار) 
مسئلہ۱۹:  اگر اَذان آہستہ ہوئی تو پھر اَذان کہی جائے اور پہلی جماعت، جماعت ِاُولی نہیں ۔   (قاضی خان )