مسئلہ۲: فجر کی اَذان میں حَیَّ عَلَی الْفَلَاحکے بعد دوبار اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم (1 ) بھی کہے کہ مستحب ہے اگر نہ کہا جب بھی اَذان ہوجائے گی۔
کن نمازوں کے لیے اَذان کہی جائے ؟
مسئلہ۳: پانچوں وقت کی فرض نماز اور انہیں میں جمعہ بھی ہے جب جماعت مستحبہ کے ساتھ مسجد میں وقت پر ادا کی جائیں تو اُن کے لیے اَذان سنت مؤکدہ ہے اور اس کا حکم مثل واجب کے ہے اگر اَذان نہ کہی گئی تو وہاں کے سب لوگ گنہگار ہوں گے۔
(خانیہ ، ہندیہ ، درمختار وردالمحتار)
مسئلہ۴: مسجد میں بلا اَذان و اِقامت کے جماعت پڑھنا مکروہ ہے۔ (عالمگیری)
اَذان کا حکم
مسئلہ۵: اگر کوئی شخص گھر میں نماز پڑھے اور اَذان نہ کہے تو کراہت نہیں ، اِس لیے کہ وہاں کی مسجد کی اَذان اس کے لیے کافی ہے لیکن کہہ لینا مستحب ہے۔
اَذان کب کہی جائے ؟
مسئلہ۶: وقت ہونے کے بعد اَذان کہی جائے اگر وقت سے پہلے کہی گئی تو وقت ہونے پر پھر کہی جائے۔ (قاضی خان، شرح وقایہ، عالمگیری وغیرہ)
________________________________
1 - نماز نیند سے بہتر ہے۔